امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھیں “بغیر مقدمہ چلائے تارکین وطن کو ملک بدر کرنے کا حق” حاصل ہے۔ یہ بیان منگل کے روز اُس عدالتی فیصلے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں امریکی سپریم کورٹ نے ہفتے کے اختتام پر ایک عبوری حکم کے ذریعے وینزویلا کے درجنوں شہریوں کی ملک بدری روکنے کا حکم دیا تھا۔
امریکی حکومت وینزویلا کے ان شہریوں پر مجرمانہ تنظیم “ترین دی آراجوا” سے تعلق رکھنے کا الزام عائد کرتی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ 1798ء میں منظور کیے گئے متنازع اور شاذ و نادر استعمال ہونے والے Alien Enemies Actکے تحت ان افراد کو ملک بدر کرنے کی تیاری کر رہی تھی۔ مذکورہ ایکٹ صدر کو جنگ یا حملے کی حالت میں غیر ملکیوں کو ملک بدر کرنے کی اجازت دیتا ہے۔
سپریم کورٹ نے ہفتے کے روز حکومت کو حکم دیا تھا کہ وہ “عدالت کے اگلے حکم تک ان افراد میں سے کسی کو بھی ملک بدر نہ کرے”۔ یہ فیصلہ امریکی سول لبرٹیز یونین (ACLU) کی جانب سے دائر کی گئی ایک ہنگامی درخواست پر دیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ ان افراد کو ان کے قانونی حقوق اور واجب الاجراء طریقہ کار سے محروم رکھا گیا ہے۔
ٹرمپ نے منگل کے روز کہا کہ انھیں امید ہے کہ “عدالتیں تعاون کریں گی” تاکہ وہ “ہزاروں افراد کو جو ملک بدری کے لیے تیار ہیں” نکال سکیں، اور یہ بھی دعویٰ کیا کہ “ان تمام افراد کے لیے مقدمات چلانا ممکن نہیں ہے”۔