بعض لوگ زندگی گزارتے ہیں، اور بعض اپنی زندگی سے ایک عہد کی صورت پیدا کر دیتے ہیں۔ حافظ محمد ادریس کا شمار ان شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے علم، دعوت، تربیت، قلم اور تحریک کو ایک دوسرے سے جدا نہیں سمجھا۔ وہ طالب علم راہنما، مبلغ، خطیب، مصنف، مربی، محقق اور جماعت اسلامی کے ذمہ دار رہنما کی حیثیت سے دینی و تحریکی زندگی میں نمایاں رہے۔
21 ستمبر 2026ء کو ان کے انتقال کی خبر سامنے آئی تو جماعت اسلامی پاکستان ایک ایسی شخصیت سے محروم ہوگئی جس نے کئی عشروں تک تحریک اسلامی کی فکری، دعوتی اور تنظیمی سرگرمیوں میں نہ صرف حصہ لیا بلکہ قیادت بھی کی۔ آپ جماعت اسلامی کے نائب امیر، امیر جماعت اسلامی پنجاب سمیت مختلف ذمہ داریاں ادا کرتے رہے۔ ان کی اصل شناخت عہدوں سے زیادہ وہ جہد مسلسل ہے جس میں انہوں نے علم کو عمل، دعوت کو تربیت اور قلم کو تحریک کا وسیلہ بنایا۔
حافظ محمد ادریس صاحب اکتوبر 1945ء میں ضلع گجرات کے گاؤں چک میانہ میں پیدا ہوئے ان کا ابتدائی ماحول سادہ اور دیہی تھا، مگر اسی ماحول میں علم حاصل کرنے اور دین کو سمجھنے کا شوق پروان چڑھا۔
انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی علاقہ سے حاصل کی بعد ازاں اعلیٰ تعلیم کیلئے لاہور کا رخ کیا اور پنجاب یونیورسٹی سے ماسٹر ڈگری حاصل کی۔
یہ تعلیمی کامیابیاں ان کے علمی سفر کی بنیاد بنیں، لیکن ان کی شخصیت کی تشکیل صرف نصابی تعلیم سے نہیں ہوئی۔ اسی زمانے میں انہیں ایسی فکری اور دعوتی صحبت میسر آئی جس نے ان کے علم کو مقصد اور سمت مہیا کی۔
حافظ صاحب سید مودودی کی عصری نشستوں اور درس قرآن میں شریک ہوتے رہے۔ ان مجالس سے انہیں قرآن فہمی، اسلامی فکر، دعوتی جدوجہد اور دین کے اجتماعی تقاضوں کو سمجھنے کا موقع ملا۔ تعلیمی زندگی کے دوران حافظ محمد ادریس اسلامی جمعیت طلبہ سے وابستہ ہوئے۔ جمعیت نے انہیں دعوت و تربیت کے ساتھ تنظیمی نظم، اجتماعی قیادت اور نوجوانوں سے براہ راست رابطے کا تجربہ فراہم کیا۔ وہ طلبہ کے درمیان سرگرم رہے اور 1970ء میں پنجاب یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کے صدر منتخب ہوئے۔ یہ انتخاب طلبہ میں ان کے اعتماد اور قائدانہ صلاحیتوں کا کھلم کھلا اظہار تھا۔
اسی دوران ایک مقدمے میں انہیں ساتھیوں سمیت ایک سال قید کی سزا ہوئی اور وہ ساہیوال جیل میں رہے۔ جیل کا مرحلہ حافظ محمد ادریس کی زندگی کا ایک اہم تجربہ تھا۔ ان کے اپنے بیان کے مطابق قید ان کے لیے محض سزا نہ رہی انہوں نے اسے انسانی تعلق، اصلاح اور دعوت کا موقع بھی بنایا۔ وہ قیدیوں کے درمیان گھل مل گئے اور جیل کے ماحول میں دینی و اخلاقی گفتگو کا سلسلہ قائم رکھا۔
حافظ صاحب محترم بتاتے ہیں کہ ماسٹر کرنے کے بعد میں نے مزید تعلیم کیلئے لندن جانے کا پلان کیا تو مولانا مودودی محترم کو بتانے کیلئے حاضر خدمت ہوا تو میرے بات کرنے سے پہلے ہی مولانا نے فرمایا کہ آپ کا ماسٹر مکمل ہو گیا ہے اب آپ کچھ عرصہ دعوت و تبلیغ کیلئے کینیا چلے جائیں۔ مولانا مودودی کے حکم نے آپ کو ایک نئے جغرافیائی اور دعوتی میدان میں اپنی صلاحیتوں کو آزمانے کا موقع فراہم کیا۔ حافظ محمد ادریس 1974ء کے آغاز میں کینیا گئے، جہاں انہوں نے اسلامک فاؤنڈیشن نیروبی کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے تقریباً بارہ سال تک خدمات انجام دیں۔
کینیا کا یہ دور ان کی دعوتی زندگی کا ایک وسیع تجربہ تھا۔ مختلف معاشرتی اور ثقافتی پس منظر رکھنے والے لوگوں کے ساتھ کام کرتے ہوئے انہوں نے دعوت کو محض تقریر تک محدود نہیں رکھا بلکہ تعلق، تعلیم، تحریر اور تربیت کے ذریعے دین کی بات پہنچانے کی کوشش کی۔
کینیا میں قیام کے دوران جب میری درخواست پر محترم حافظ محمد ادریس چند روز کے لیے تشریف لائے تو مرحوم راؤ اختر (ڈائریکٹر اسلامک فاؤنڈیشن کینیا) نے ان کے لیے مختلف شخصیات سے ملاقاتوں اور متعدد مقامات پر پروگراموں کا اہتمام کیا۔ ان ملاقاتوں میں بارہا یہ احساس ہوا کہ حافظ صاحب نے کینیا کو برسوں پہلے چھوڑا ضرور تھا، مگر بہت سے دلوں میں وہ آج بھی اسی طرح زندہ ہیں جیسے کبھی وہاں موجود تھے۔
ایک روز ہم اس مسجد میں گئے جہاں حافظ صاحب نے مسلسل تیرہ برس تراویح کی امامت کی تھی۔ مسجد کی انتظامیہ نے ان سے ایک لیکچر کی درخواست کی۔ دوران لیکچر ایک عرب بزرگ میرے قریب آکر بیٹھ گئے اور پوچھنے لگے
یہ سکالر کون ہیں؟ میں نے بتایا: ’’یہ حافظ محمد ادریس صاحب ہیں، اور کبھی اسی مسجد میں۔۔۔‘‘ میں ابھی اپنی بات مکمل بھی نہ کر پایا تھا کہ وہ فوراً بول اٹھے، میں انہیں جانتا ہوں! میں نے حیرت سے دوبارہ پوچھا تو انہوں نے بتایا ’’میں اس مسجد کا امام ہوں۔ مسجد کی انتظامیہ کے لوگ حافظ صاحب کا اتنا ذکر کرتے ہیں کہ میں ان کے بارے میں بہت کچھ جانتا ہوں۔‘‘
یہ محض ایک تعارف نہ تھا، بلکہ اس بات کی گواہی تھی کہ انسان چلا جاتا ہے، مگر اس کی محنت، اس کا اخلاص اور اس کی یادیں لوگوں کے دلوں میں باقی رہتی ہیں۔
مسجد سے باہر نکلے تو جوتوں کے قریب ایک معمر شخص ایک نوجوان لڑکے کا ہاتھ تھامے کھڑا تھا۔ حافظ صاحب کو دیکھتے ہی وہ آگے بڑھا، سلام کیا اور پوچھا کیا آپ مجھے پہچانتے ہیں؟ حافظ صاحب نے نہ صرف اسے پہچان لیا بلکہ اس کا نام لے کر اس کے حالات دریافت کرنے لگے۔ یہ منظر دیکھتے ہی اس بوڑھے شخص کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ رندھی ہوئی آواز میں کہنے لگا ’’آپ نے مجھ ناچیز کو یاد رکھا – یہ میرا بیٹا ہے، اس کے سر پر بھی ہاتھ رکھ دیجیے۔‘‘
یہ ایک لمحہ تھا، مگر اس ایک لمحے میں حافظ صاحب کی برسوں پر محیط دعوتی زندگی کی ایک پوری داستان سمٹ آئی تھی۔ جن لوگوں کے درمیان وہ کبھی قرآن و سنت کی بات کرتے، ان کی زندگیوں کو سنوارتے اور انہیں اللہ سے جوڑنے کی کوشش کرتے رہے تھے، وہ لوگ وقت کے فاصلے اور برسوں کی جدائی کے باوجود انہیں اپنے دل سے نکال نہ سکے تھے۔
ہم برادر سلیم نیازی صاحب کے گھر بیٹھے ہوئے تھے وہاں ڈاکٹر فاروق چوہدری صاحب تشریف لائے تو حافظ صاحب کو دیکھتے ہی وہ چند لمحوں کے لیے جیسے یقین نہ کر سکے۔ بار بار حافظ صاحب کو دیکھتے اور آنکھیں ملتے رہے، پھر اچانک آگے بڑھے، حافظ صاحب کے گھٹنوں کو ہاتھ لگایا اور مجھ سے قدرے شکوے کے انداز میں بولے تم نے مجھے کیوں نہیں بتایا کہ تم حافظ صاحب کو جانتے ہو- میں نے عرض کیا میں کیسے جان سکتا تھا کہ آپ بھی حافظ صاحب کو جانتے ہیں- اس پر ان کی آنکھوں میں عقیدت کے جذبات نمایاں ہوگئے اور کہنے لگے ’’میں پیدائشی مسلمان تو ہوں، لیکن مجھے مسلمان بنانے میں حافظ صاحب کا بہت بڑا کردار ہے۔‘‘
اسی سلسلے کی ایک اور ایمان افروز داستان برادر عبدالحمید سلاح صاحب نے سنائی، جو مشرقی افریقہ میں مسلم این جی اوز کی تربیت اور فکری رہنمائی کا کام کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مسائی قبیلہ کا ایک شخص جو حافظ صاحب کی کوششوں سے اسلام قبول کرچکا تھا، نے انہیں بتایا ’’میں حافظ صاحب کے لیکچرز اور گفتگو ریکارڈ کرکے محفوظ کرلیا کرتا تھا۔ ان دنوں ٹیپ ریکارڈر قبائلی لوگوں کے لیے ایک عجیب اور نئی چیز تھا۔ جب اس میں سے حافظ صاحب کی آواز آتی تو لوگ متوجہ ہوجاتے۔ پھر وہ ان باتوں کو سنتے، ان پر گفتگو کرتے اور سوالات اٹھاتے۔ میں حافظ صاحب کے ان لیکچرز اور اپنی معلومات کی روشنی میں ان کے سوالات کے جواب دیتا اور انہیں اسلام سمجھانے کی کوشش کرتا۔‘‘ اس مسلسل دعوتی عمل کا نتیجہ یہ نکلا کہ تین سو سے زائد افراد پر مشتمل وہ قبیلہ تقریباً پورا کا پورا مسلمان ہوگیا۔
یہ واقعہ سن کر انسان سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ ایک داعی کی آواز کہاں تک پہنچ سکتی ہے اور ایک مخلص انسان کی محنت کے اثرات کتنی نسلوں اور کتنے خطوں تک پھیل سکتے ہیں۔ کبھی ایک مسجد میں کی گئی گفتگو، کبھی نوجوانوں کے درمیان کیا گیا ایک خطاب، کبھی کسی فرد سے ہونے والی ایک نشست اور کبھی ایک معمولی سا آڈیو ریکارڈ، اللہ تعالیٰ جب کسی کوشش میں اخلاص پیدا فرما دے تو وہ بظاہر محدود عمل بھی نہ جانے کتنے دلوں کی دنیا بدل دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان سے عملاً بھی اور تحریراً بھی جو کام لیا، اسے ان کے لیے صدقۂ جاریہ بنائے، ان کی دعوتی، تعلیمی اور تحریکی خدمات کو ان کے میزان حسنات میں جاری و ساری رکھے اور ان کی زندگی بھر کی محنت کو ان کی مغفرت اور بلندی درجات کا ذریعہ بنائے۔ آمین۔
کینیا سے واپسی کے بعد حافظ محمد ادریس کی علمی و دعوتی سرگرمیوں کا دائرہ وسیع ہوا۔ سیرت رسول صلى الله عليه وسلم اور سیرت صحابہؓ ان کی تصانیف اور خطبات کے نمایاں موضوعات میں شامل رہے۔ انہیں ان موضوعات کو دعوت، تربیت، قیادت، صبر اور کردار سازی کے زاویے سے پیش کرنے میں خاص دلچسپی تھی۔ حافظ صاحب کے نزدیک سیرت کا مطالعہ اسی وقت بامقصد بنتا ہے جب وہ انسان کے کردار، ترجیحات اور اجتماعی رویے میں تبدیلی پیدا کرے۔ یہی تصور ان کی تصنیفی زندگی کے بنیادی محرکات میں بھی دکھائی دیتا ہے۔ سیرت رسول اور صحابہؓ پر کام ان کی دعوتی زندگی کا تسلسل رہا ہے۔ انہوں نے اپنے تجربات اور مطالعے کو کتابوں، خطبات اور تربیتی مجالس کے ذریعے نئی نسل تک منتقل کیا۔
ان کا اسلوب سادہ، رواں اور دل نشیں تھا۔ ان کی تحریروں کا مقصد محض معلومات فراہم کرنا نہیں بلکہ فکر اور کردار پر اثر ڈالنا بھی تھا۔ وہ خطابت میں بھی نمایاں تھے۔ قرآن، حدیث، سیرت اور تاریخ کے واقعات بیان کرتے ہوئے وہ سامعین کو عمل، اصلاح اور دعوت کی طرف متوجہ کرتے تھے۔ انہوں نے بچوں اور نوجوانوں کے لیے بھی زبردست کام کیا ہے۔
یوں ان کی دعوتی زندگی میں قلم اور زبان ایک دوسرے کے معاون رہے۔ انہوں نے دین کو صرف پڑھا نہیں بلکہ اسے اپنی زندگی کا موضوع بنایا، تحریک کو صرف منظم نہیں کیا بلکہ اس کے لیے اپنی زندگی صرف کی اور سیرت و تاریخ کو صرف بیان نہیں کیا بلکہ انہیں انسان سازی کا ذریعہ بنانے کی کوشش کی۔ ان کی زندگی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ علم جب دعوت سے جڑتا ہے، دعوت تربیت میں ڈھلتی ہے اور تربیت عمل کا راستہ دکھاتی ہے تو ایک فرد کی جدوجہد دوسروں کے لیے رہنمائی بن سکتی ہے۔
اللہ تعالیٰ حافظ محمد ادریس کی مغفرت ان کی دینی و تحریکی خدمات کو قبول فرمائیں، درجات بلند کریں۔ (آمین)
کچھ لوگ زمین کا بوجھ ہوتے ہیں، مگر کچھ لوگ زمین کا بوجھ اٹھاتے ہیں اور حافظ محمد ادریس انہی لوگوں میں سے ایک تھے۔