ایک طرف نہتے فلسطینیوں کو دیکھیں جوا للہ ربّ العزت کو”راضی” کرنے کیلئے اپنے پیاروں سمیت جام شہادت نوش کررہے ہیں جبکہ دوسری طرف ان کا بدترین دشمن اسرائیل مہلک ہتھیاروں کے زور پر ان سے مزید” اراضی” ہتھیانا جبکہ ا پنے مذموم عزائم کی تکمیل کیلئے ہرایک بیگناہ فلسطینی کوموت کے گھاٹ اتارنا چاہتا ہے جبکہ اس کے باوجود بیہودہ یہودہ کے پیروکار اسے اپنے دفاع کانام دے رہے ہیں۔زمین کی خاطر بیگناہ انسانوں کوزیرزمین پہنچانایابیٹیوں اوربہنوں کا شرعی حق” غصب "کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے” غضب "سے نہ ڈرنا ہرایک مردہ ضمیرانسان کی فطرت ہے۔اِسرائیل کی مردہ ضمیر قیادت نے زیادہ زمین کی "ہوس” میں اپنی ناجائز ریاست کو ایک” قفس” میں بند کردیا ہے۔غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت نے اسے دنیا بھر میں نفرت کی علامت بنادیا،لوگ اسرائیل پر تھوتھوکررہے ہیں۔یورپ سمیت دنیا کے متعدد ملکوں میں مقیم یاوہاں سیروسیاحت کیلئے جانیوالے یہودیوں کوبری طرح سے دھتکارا جارہا ہے۔ہزاروں نہتے فلسطینیوں کی شہادتوں نے اسرائیل کی شرمناک رسوائی،پسپائی اورتنہائی پرمہرثبت کردی ہے، نریندرمودی کابچھڑا بھائی ڈونلڈ ٹرمپ ضرور ت سے زیادہ اسرائیل کا ہمنوا ضرور ہے لیکن امریکہ کے عوام بڑے اجتماعات میں اسرائیلی فسطائیت سے اظہاربیزاری اوراظہار نفرت کررہے ہیں،اب توبھارت میں بھی نوجوان ہندوؤں نے اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کی منظم مہم شروع کردی ہے۔قحط زدہ فلسطینیوں کی آہوں کا” شور” سوشل میڈیا کی وساطت سے عالمی سطح پر”شعور” بیدارکرنے میں کامیاب رہا ہے۔دنیا بھر کے میڈیا کی” سرخیوں ” میں فلسطینیوں کے خون کی” سرخی” کارنگ نمایاں ہے۔نہتے فلسطینیوں کے ناحق بہتے "خون” نے اسرائیلی” جنون” کوشکست دے دی۔چائنہ، برطانیہ،آسٹریلیا اورفرانس سمیت اہم یورپی ملکوں کے منتخب ایوانوں سے اسرائیل کیخلاف بلندہونیوالی تواناآوازوں میں فلسطینیوں کیلئے ایک نوید اور امید ہے۔ متعدد ملک اسرائیل کے ساتھ مختلف معاہدوں پرنظرثانی کاعندیہ دے رہے ہیں، ریاست پاکستان بھی اسرائیلی جارحیت کیخلاف اپنے بیانات بنداورفلسطینیوں کوکشت وخون سے بچانے کیلئے ٹھوس اقدامات شروع کرے۔یادرکھیں جہاں ہمارے باپ دادا مدفون ہیں اس مقام کوشہرخموشاں بھی کہا جاتا ہے،آج جولوگ فلسطینیوں کی حالت زاردیکھتے اورمحسوس کرتے ہوئے بھی خاموش ہیں وہ خودکوزندوں میں شمار نہ کریں۔
دنیا کے متعدد ملکوں کی طرف سے شدیدتنقید اور دباؤ کومسترد کرتے ہوئے اسرائیل نے غزہ پر اذیتوں کا شکنجہ مزید کس دیا ہے، فلسطینی شہیدوں کے خون کے چھینٹوں سے اسرائیل کاخونخوار چہرہ دنیا بھرمیں بے نقاب ہوگیا۔فلسطینیوں کے حق میں سوشل میڈیا پرجاری "مہم”یقینا اسرائیلی” مہم جوئی” کاپوسٹ مارٹم کرنے کیلئے کافی ہے۔اسرائیل کے بیانیہ پر کوئی باشعور انسان کان دھرنے کیلئے تیار نہیں ہے، کوئی ناجائز ریاست اپنے دفاع کیلئے شیرخواروں سمیت نوعمر بچوں کاقتل عام نہیں کرسکتی۔ بھوک اورپیاس سے نڈھال کوئی فلسطینی اب اپنے ناتواں ہاتھوں میں ہتھیار تودرکنار غلیل تک اٹھانے کی سکت نہیں رکھتالہٰذاء اسرائیلی جارحیت اورفسطائیت کوجنگ ہرگزنہیں کہا جاسکتا۔ایران اوراسرائیل کے ایک دوسرے پر حالیہ حملے جنگ کے مفہوم پرپورااترتے ہیں۔فلسطینی کسی قسم کے ہتھیاروں سے مسلح نہیں،وہ بیچارے تو مصلحت پسند اورامن پسندہیں۔جوطعام کیلئے دوسروں کے رحم وکرم پرہووہ کیا خاک اپنوں کا انتقام لے گا۔ فلسطینیوں کے قلوب میں اسرائیلی شیطانیت کیخلاف مزاحمت کی نیت توہوسکتی ہیں لیکن بھوک کی شدت سے نڈھال ان بیچاروں میں کوئی اس کی سکت نہیں رکھتا۔بہرکیف انہیں اپنے باپ دادا کی اس سرزمین سے بیدخلی ہرگزقبول نہیں جہاں ان کے عزیز واقارب مدفون ہیں۔اسرائیل نے ایک دن کیلئے بھی اپنی بدترین فسطائیت کامظاہرہ بندنہیں کیا، غزہ کے کھنڈرات میں جابجا شہیدوں کی باقیات بکھری ہوئی ہیں۔کوئی فلسطینی اپنی پتھرائی آنکھوں کے ساتھ سکون سے سوبھی نہیں سکتا،وہ اپنوں کی شہادت پرروتے ہیں لیکن ان کی آنکھوں سے پانی نہیں بہتا۔جواپنی اوراپنوں کی جان بچانے کیلئے امدادی کیمپ جاتے ہیں انہیں بھی جان سے ماردیاجاتا ہے۔ہم میں سے کوئی اُس کرب کاتصور بھی نہیں کرسکتا جس کا فلسطینیوں کوسامنا ہے، ہم نے بھوک کانام سنا ہے لیکن فلسطینی اپنے بچوں سمیت بھوک کو بھگت رہے ہیں۔اسرائیلی بارود نے ہزاروں بچوں کوموت کے گھاٹ اتاردیا جبکہ متعدد اپنے ہاتھوں یاپیروں سے محروم ہوگئے ہیں اگر اسرائیلی فسطائیت کے باوجود وہ مزید زندہ رہے توزندگی بھر اپنابوجھ گھسیٹتے پھریں گے۔اسرائیل نے فلسطینی بچوں سے ان کابچپن تک چھین لیا،اس نے کوئی مسجد،مادرعلمی اورکوئی عمارت تک نہیں چھوڑی۔
غزہ میں ایساکوئی خاندان نہیں جس کے دویادوسے زیادہ افراد شہید نہ ہوئے ہوں۔ یتیم فلسطینی بچوں کواپنے وزن سے زیادہ بوجھ اٹھانا بلکہ ڈھونا پڑرہا ہے۔ بچوں کی نم آنکھوں سے ان کاہرغم نہیں جھلکتا، وہ درد کی شدت سے اپنے اندر بار بار ٹوٹ اوران کے ہاتھوں سے امید کے دامن چھوٹ رہے ہیں،انہیں لگتا تھا مسلمان حکمرانوں میں سے کوئی توان کانجات دہندہ بنے گا لیکن ستر ستر سال کی” عمر” کے باوجودکسی اسلامی ریاست کا کوئی حکمران” عمر ؓ "ثانی نہیں جو”امداد” کے ساتھ ان کی ” مدد”کیلئے غزہ میں پہنچتا۔وہ یادرکھیں ان میں سے کسی نے آب حیات نوش نہیں کیا ہوالہٰذاء ہر کسی کی موت کاوقت معین ہے لیکن شہادت ہر کسی کو نصیب نہیں ہوسکتی۔جو نازک مزاج حکمران محلات کے عادی ہوں وہ مصلحت پسندجہاد کی نیت سے مہمات پرجاناپسند نہیں کرتے۔غزہ کیلئے ایک غزنویؒ کافی تھا لیکن جوعالم ارواح میں چلے جاتے ہیں وہاں سے واپس نہیں آتے،اہلیان غزہ نے سوچاہوگاشاید دنیا کے مقتدر ملک ان کے زخموں پرمرہم رکھیں گے لیکن ان کاکوئی والی وارث نہیں بنا،برادراسلامی ریاست یمن کے سوا کسی نے اسرائیل سے ان کاانتقام نہیں لیا۔ایران کا بھی اسرائیل کے ساتھ سیزفائر کرتے وقت غزہ بحران کی طرف دھیان نہیں گیا۔ ایران اوراسرائیل کے درمیان حالیہ تصادم کے دوران بھی آسمان سے غزہ پر بارود برستا رہا اورہنوز برس رہا ہے جبکہ اس دوران فلسطین کی سر زمین نے بھوک اگلنا شروع کردی،اہلیان غزہ سے کچھ دورسمندر ہے لیکن کوئی فلسطینی پیاس کی شدت کے باوجوداِس آب سے سیراب نہیں ہوسکتا۔اسرائیل نے گھیراؤکے بل پر فلسطینیوں کی نسل کشی کیلئے انہیں فاقہ کشی پرمجبورکردیاہے،امریکہ کے ہوتے ہوئے اقوام متحدہ بھی اسرائیل کیخلاف کوئی سخت اقدام کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔اسرائیلی درندے محصور اورمجبور فلسطینیوں پر بیک وقت بھوک اور بارود کے ساتھ حملے کررہے ہیں۔فلسطینیوں کے پیچھے بارود اورآگے بھوک ہے،پھر یہ کون کہتا ہے ابھی قیامت نہیں آئی۔
دنیاکاہرزندہ ضمیر انسان غزہ کیلئے غمزدہ ہے،تاہم سنجیدہ افرادکامصیبت زدوں کیلئے رنجیدہ ہوناکافی نہیں بلکہ انہیں ستم زدوں کی راحت کیلئے مسیحااور نجات دہندہ بنناہوگا۔مسلمان حکمران اپنے برادر اسلامی ملک ایران کے ہاتھوں اسرائیل کی رسوائی اورپسپائی یاداور اس ناجائز ریاست کیخلاف انتہائی راست اقدام کرتے ہوئے ایساکاری ” وار” کریں جس کے بعدوہ لبنان اورشام سمیت کسی اسلامی ریاست کے ساتھ ” "war کے قابل نہ رہے۔ اگرمسلمانوں نے غزوہ بدر کافلسفہ فراموش نہ کیاہوتاتواسرائیل ہرگز غزہ کومیلی آنکھ سے دیکھنے کی جسارت اوروہاں بدترین جارحیت نہ کرتا۔اوآئی سی کی "ساکھ” کو”راکھ” کاڈھیر بنے توایک مدت ہوئی تاہم مقتدرملکوں سمیت اقوام متحدہ کی مجرمانہ خاموشی سے فلسطینیوں کی نسل کشی میں مزید شدت آتی چلی گئی۔غزہ کے قحط سے متاثرہ بچوں کی دلخراش تصاویر منظرعام پرآنے کے باوجود عالمی ضمیر نے وہ اجتماعی” ری ایکشن” دیا نہ ایسا” ایکشن” لیا جوناگزیر تھا۔فلسطینی سخت ترین گھیراؤمیں بھی گھبرائے نہیں،انہیں اپنی نجات کیلئے غزہ سے ہجرت کرنے کی بھی آزادی نہیں اورنہ کوئی دوسری ریاست محصور ویرغمال فلسطینیوں تک کسی قسم کاامدادی سامان پہنچاسکتی ہے۔فلسطینیوں کو بدترین نسل کشی اورفاقہ کشی سے بچانے کیلئے ہمیں بحیثیت انسان اپنی اپنی مجرمانہ خاموشی کو”شوراورشعور” میں بدلنا ہوگا۔ راقم کے پاس قلم ہے،میں نے اپنے قلم سے اسرائیلی صیہونیت اورفسطائیت کیخلاف چارج شیٹ سپردقرطاس کردی ہے،جس کے پاس بندوق اوربارود ہے اس کو اپنے کام سے انصاف کرناہوگا۔اگرانسانیت کیخلاف سرگرم اسرائیل نامی بے رحم طاقت کوکچلنا ہے تو جنگ کے نام پرمجرمانہ سرگرمیوں کیخلاف زبان نہیں طاقت استعمال کرناہوگی۔