ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف نے کہا ہے کہ 2016 کے بعد سے ملک میں ایک سو پچاس ارب ڈالر کی غیر ملکی سرمایہ کاری آئی ہے۔
انہوں نے یہ بات سمرقند میں منعقدہ ایشیائی ترقیاتی بینک کے بورڈ آف گورنرز کے انسٹھویں سالانہ اجلاس سے خطاب کے دوران کہی۔
صدر کے مطابق ازبکستان نے 2016 کے بعد سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے، عالمی منڈیوں سے روابط بڑھانے اور ملک بھر میں صنعتی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے وسیع اصلاحات کی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ان اصلاحات کے نتیجے میں ہزاروں جدید صنعتی ادارے قائم ہوئے ہیں۔
صدر مرزائیوف کے مطابق اسی عرصے میں اشیا اور خدمات کی برآمدات تین گنا بڑھ گئی ہیں جبکہ معیشت کا حجم 50 ارب ڈالر سے بڑھ کر 147 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔
ازبکستان اور ایشیائی ترقیاتی بینک نے 2030 تک کے لیے ایک نیا 12 ارب 50 کروڑ ڈالر کا شراکتی پروگرام بھی طے کیا ہے۔
اس پروگرام کے تحت رہائشی قرضوں کے شعبے کی بہتری، نجی شعبے کی ترقی، نوجوانوں اور خواتین کے کاروبار، غربت میں کمی، تعلیم میں اصلاحات، انسانی وسائل کی ترقی اور ڈیجیٹل جدت جیسے شعبوں میں تعاون کیا جائے گا۔