سیلاب: سندھ میں 16 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہونے کا خدشہ

پاکستان کے صوبہ سندھ میں سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ سیلاب کا پانی دو یا تین ستمبر کی رات کو پنجاب سے سندھ میں داخل ہوسکتا ہے، جس کے پیش نظر تمام تر حفاظتی اور ریلیف اقدامات جاری ہیں۔

شرجیل انعام میمن نے بتایا کہ متاثرین کے لیے ریلیف کیمپس قائم کیے گئے ہیں، تاہم زیادہ تر لوگ روایتی طور پر اپنے رشتہ داروں کے پاس منتقل ہونا پسند کرتے ہیں۔ ان کے مطابق جانوروں کے لیے بھی 300 خصوصی کیمپس قائم کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ہر تین گھنٹے بعد صورتحال پر اپڈیٹ فراہم کر رہی ہے، جبکہ پنجاب حکومت بھی تعاون کے طور پر کٹس مہیا کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پانی کی صورتحال کی مسلسل نگرانی جاری ہے اور ریسکیو سرگرمیاں پوری طرح فعال ہیں۔

سینیئر وزیر نے واضح کیا کہ اس وقت نہ پیسوں کی کمی ہے اور نہ ہی کوئی ایمرجنسی صورتحال، تاہم حکومت ہر ممکن چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سندھ میں ممکنہ طور پر 16 لاکھ 50 ہزار افراد، 1651 دیہات اور 167 یونین کونسلز متاثر ہوسکتے ہیں جبکہ دو لاکھ 73 ہزار خاندان متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ اس وقت 192 ریسکیو کشتیاں اور موبائل ہیلتھ یونٹس متحرک کر دی گئی ہیں۔

شرجیل انعام میمن کا کہنا تھا کہ ضلعی انتظامیہ مسلسل رابطے میں ہے اور متاثرہ علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے، تاہم زیادہ تر افراد حسب روایت کچے کے علاقوں سے خود ہی نکل جاتے ہیں۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں