پاکستان: کراچی میں لگی آگ 17 روز بعد بھی بے قابو، بین الاقوامی ماہرین کی خدمات حاصل

پاکستان کے سب سے بڑے شہر،کراچی کے علاقے، کورنگی میں 29 مارچ کو بھڑکنے والی پراسرار آگ کو 17 روز گزر جانے کے باوجود بجھایا نہیں جاسکا، صورتحال بدستور تشویشناک ہے۔ آگ کی شدت میں کوئی واضح کمی نہ آنے پر اب بین الاقوامی ماہرین کی مدد حاصل کر لی گئی ہے۔ چیف سیکریٹری سندھ، آصف حیدر شاہ کی خصوصی ہدایت پر امریکی ماہرین کی خدمات حاصل کی گئی ہیں، تاکہ آگ کے مکمل خاتمے اور گیس کے اخراج کو روکا جا سکے۔
چیف سیکریٹری کے ترجمان نے بتایا کہ، وزارتِ پیٹرولیم کی معاونت سے امریکا کی ایک معروف ماہر کمپنی کو طلب کیا گیا ہے۔ پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (PPL) اور یونائیٹڈ انرجی پاکستان لمیٹڈ (UEPL) کی تکنیکی ٹیموں نے متاثرہ مقام کا مشترکہ معائنہ کیا ہے۔
یہ تکنیکی ٹیم ماہرینِ ڈرلنگ، کمپلیشن اور سیفٹی پر مشتمل ہے جنہوں نے سائٹ کا تفصیلی جائزہ لیا۔ ان کے مطابق، آگ کی شدت بدستور برقرار ہے اور گیس کا مسلسل اخراج گڑھے کے مزید پھیلاؤ کا سبب بن رہا ہے۔ گرم پانی بھی مسلسل زمین سے خارج ہورہا ہے، جس سے اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ، زیرزمین گیس کے ذخائر میں غیرمعمولی دباؤ موجود ہے۔
ذرائع کے مطابق، موجودہ صورتحال پر قابو پانے کے لیے گڑھے میں سیمنٹ بھرنے کی حکمت عملی زیر غور ہے اور ماہرین اس پر مشاورت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اگر ضرورت پیش آئی تو نیا کنواں کھود کر گیس کے منبع تک پہنچنے کا بھی فیصلہ کیا جا سکتا ہے، تاہم اس کا انحصار ماہرین کی حتمی رپورٹ پر ہوگا۔
واضح رہے کہ، کورنگی کریک میں ایک معروف تعمیراتی کمپنی کی جانب سے ہاؤسنگ پروجیکٹ کے لیے پانی کے حصول کے سلسلے میں 1200 فٹ گہرا بور کیا گیا تھا۔ بورنگ مکمل ہونے پر اچانک زمین سے گیس کے اخراج کے ساتھ زوردار آگ بھڑک اٹھی، جو کئی ہفتوں سے مسلسل لگی ہوئی ہے۔ اس واقعے نے نہ صرف مقامی رہائشیوں کو خوفزدہ کر رکھا ہے، بلکہ ماحولیاتی اور تکنیکی ماہرین کو بھی چیلنج دے رکھا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں