پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم کی کپتان فاطمہ ثنا کو بھارت کے خلاف ویمنز ایشیا کپ میچ کے دوران بھارتی بلے باز شَفالی ورما کو آؤٹ کرنے کے بعد کیے گئے اشارے پر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے جرمانہ عائد کردیا ہے۔
آئی سی سی کے مطابق فاطمہ ثنا پر ان کی میچ فیس کا 10 فیصد جرمانہ کیا گیا جبکہ ان کے ڈسپلنری ریکارڈ میں ایک ڈی میرٹ پوائنٹ بھی شامل کردیا گیا ہے۔
یہ واقعہ پاکستان اور بھارت کے درمیان 5 ستمبر کو دبئی میں کھیلے گئے ایشیا کپ میچ کے دوران پیش آیا۔ فاطمہ ثنا نے اپنے دوسرے اوور میں شَفالی ورما کو اپنی ہی گیند پر کیچ آؤٹ کیا۔ وکٹ حاصل کرنے کے بعد انہوں نے بھارتی بلے باز کی جانب پویلین کی طرف جانے کا اشارہ کیا، جسے آئی سی سی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔
آئی سی سی کے مطابق یہ عمل ضابطہ اخلاق کے آرٹیکل 2.5 کے تحت آتا ہے، جس میں ایسے الفاظ، حرکات یا اشاروں کی ممانعت ہے جو کسی آؤٹ ہونے والے بلے باز کی تضحیک کریں یا اس کی جانب سے جارحانہ ردعمل کا باعث بن سکتے ہوں۔
فاطمہ ثنا نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے آئی سی سی کی جانب سے عائد سزا قبول کرلی، جس کے بعد باقاعدہ سماعت کی ضرورت پیش نہیں آئی۔
یہ گزشتہ 24 ماہ کے دوران فاطمہ ثنا کی دوسری خلاف ورزی ہے۔ اس سے قبل اگست 2025 میں آئرلینڈ کے خلاف ایک ٹی20 انٹرنیشنل میچ کے دوران بھی ان کے ڈسپلنری ریکارڈ میں خلاف ورزی درج ہوئی تھی۔
آئی سی سی قوانین کے تحت لیول ون کی خلاف ورزی پر کھلاڑی کو سرکاری تنبیہ سے لے کر میچ فیس کے 50 فیصد تک جرمانہ کیا جاسکتا ہے، جبکہ ایک یا دو ڈی میرٹ پوائنٹس بھی دیے جا سکتے ہیں۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان کھیلے گئے اس میچ میں شَفالی ورما نے 6 گیندوں پر 12 رنز بنائے تھے۔ بھارت نے میچ میں پاکستان کو سات وکٹوں سے شکست دے کر ٹورنامنٹ میں اپنی ناقابل شکست پیش قدمی جاری رکھی۔
بھارتی ٹیم نے گروپ مرحلے کے اپنے ابتدائی تینوں میچ جیت کر چھ پوائنٹس حاصل کیے اور سیمی فائنل میں جگہ بنائی، جبکہ پاکستان کو اگلے مرحلے میں رسائی کے لیے ہانگ کانگ کے خلاف کامیابی درکار تھی۔
بھارتی ویمنز ٹیم ایشیا کپ کی تاریخ کی سب سے کامیاب ٹیم ہے اور اب تک سات مرتبہ ٹائٹل جیت چکی ہے۔ پاکستان اب تک ایشیا کپ نہیں جیت سکا تاہم 2012 اور 2016 میں فائنل تک پہنچا، جہاں اسے دونوں مرتبہ بھارت کے ہاتھوں شکست ہوئی۔
فاطمہ ثنا کو اکتوبر 2024 میں پاکستان ویمنز ٹیم کی کپتان مقرر کیا گیا تھا۔ اس وقت وہ 22 برس کی عمر میں قومی ویمنز ٹیم کی قیادت کرنے والی کم عمر ترین کھلاڑی بن گئی تھیں۔