"جعلی پاکستانی "، انگریزی روزنامہ ڈان کا اداریہ

یہ انکشاف واقعی چونکا دینے والا ہے۔ سعودی حکومت کے زیرِ حراست ایسے سینکڑوں افراد کی تحقیقات کے دوران پتہ چلا کہ وہ دراصل پاکستانی نہیں بلکہ افغان شہری ہیں، جنہوں نے قومی شناخت میں جعلسازی کر کے پاکستانی پاسپورٹ حاصل کر لیے تھے۔ سینیٹ کی داخلہ امور کی قائمہ کمیٹی کو جمعرات کے روز آگاہ کیا گیا کہ سعودی حکام نے 1,296 افغان باشندوں کی نشاندہی کی ہے، جنہوں نے مبینہ طور پر مقامی سہولت کاروں کی مدد سے پاکستان کے قومی شناختی نظام میں موجود کمزوریوں کا فائدہ اٹھا کر پاکستانی پاسپورٹ حاصل کیے۔
باخبر ذرائع کے مطابق نادرا کے خاندانی رجسٹریشن کے عمل میں موجود ایک خامی جسے حال ہی میں بند کیا گیا ہے، نے اس جعلسازی کو ممکن بنایا۔ اس عمل کے تحت جعلی پیدائش کے سرٹیفکیٹس (جو یونین کونسلز سے جاری کیے گئے) کی بنیاد پر کسی پاکستانی شہری کے خاندانی شجرے میں نئے افراد کا اندراج ممکن تھا۔ غیر ملکیوں نے اسی عمل کا سہارا لے کر اپنے آپ کو پاکستانی خاندانوں کا رکن ظاہر کیا اور اس بنیاد پر قومی شناختی کارڈ (CNICs) اور پاسپورٹس حاصل کیے جن پر وہ بیرون ملک سفر کرتے رہے۔
تعجب کی بات نہیں کہ پاکستانی شہریوں کو بیرون ملک ویزے حاصل کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ اس طرح کے واقعات، حتیٰ کہ ‘برادرانہ’ تعلقات رکھنے والے ممالک میں بھی، پاکستانی زائرین پر بدگمانی کا باعث بنتے ہیں — اور ہم ان ممالک کو موردِ الزام نہیں ٹھہرا سکتے۔ جب سعودی عرب نے ہی سیکڑوں افغان باشندوں کو بے نقاب کر لیا ہے جو پاکستانی شناخت کے ساتھ بیرون ملک جا پہنچے تھے، تو یہ اندیشہ موجود ہے کہ دنیا کے دیگر حصوں میں بھی ایسے کئی اور افراد موجود ہوں گے۔
ایسے اقدامات، چاہے کسی بھی غیر ملکی نے پاکستانی سرزمین پر کیے ہوں ، ہمارے ملک کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ ہیں۔ ان کی جانب سے کیے گئے کسی بھی جرم یا پیدا کی گئی کسی بھی مشکل کا براہِ راست اثر پاکستان کی عالمی ساکھ پر پڑتا ہے اور عام پاکستانی شہریوں کے لیے پریشانیاں پیدا ہوتی ہیں۔
لہٰذا حکام کو چاہیے کہ ایسے تمام افراد اور ان کے مقامی سہولت کاروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ قومی شہریت کے ریکارڈز کا ازسرنو جائزہ لے کر ایسے مسافروں کی شناخت کی جائے جن پر پاکستانی شہریت کے کاغذات جعلی طور پر حاصل کرنے کا شبہ ہو۔ ان افراد سے اپنی شہریت کا ثبوت طلب کیا جائے۔ ساتھ ہی، ایسے مقامی سہولت کاروں کو بے نقاب کر کے انہیں عبرتناک سزائیں دی جائیں۔ اس وقت تک عالمی اعتماد بحال نہیں ہو سکتا جب تک شفاف اور سخت اقدامات نہ اٹھائے جائیں۔
(شائع شدہ: ڈان، 26 اپریل 2025)

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں