کانگو میں ایبولا وائرس سے ہلاکتیں 1800 سے تجاوز، تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر ہیلتھ ورکرز کی ہڑتال

جمہوریہ کانگو میں ایبولا کی وبا کے دوران ہلاکتوں کی تعداد 1800 سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ متاثرہ علاقوں میں کام کرنے والے درجنوں ہیلتھ ورکرز نے تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر ہڑتال کر دی ہے۔

عالمی ادارہ صحت اور امدادی کارکنوں نے خبردار کیا ہے کہ وائرس خطرناک اور غیر معمولی رفتار سے پھیل رہا ہے، جبکہ نئے کیسز دور دراز علاقوں میں بھی سامنے آ رہے ہیں۔ حکام کے مطابق ایبولا سے متاثرہ افراد کی تعداد 3973 تک پہنچ گئی ہے، جن میں 1801 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

وبا کا مرکز ملک کا مشرقی صوبہ اِتوری ہے، جہاں تقریباً 90 فیصد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ صوبائی دارالحکومت بنیا میں ہیلتھ ورکرز نے گورنر کے دفتر کے باہر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ انہیں مئی کے وسط میں وبا شروع ہونے کے بعد سے تنخواہیں اور اضافی مراعات نہیں دی گئیں۔

ایک احتجاجی کارکن ایڈوئج ماکوسی نے الجزیرہ کو بتایا کہ اس صورتحال میں صوبے سے ایبولا کا خاتمہ ممکن نہیں ہوگا اور حکام کو فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔

حکام ماضی میں ادائیگیوں میں تاخیر کی وجہ انتظامی اور لاجسٹک مسائل کو قرار دیتے رہے ہیں، تاہم حکومت نے تازہ الزامات پر فوری ردعمل نہیں دیا۔

امدادی اداروں کے مطابق فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کی خراب صورتحال وبا پر قابو پانے میں بڑی رکاوٹ بن رہی ہے۔ متاثرہ علاقوں میں مسلح گروہوں کے حملوں اور عوامی غصے کے باعث صحت مراکز اور کارکن بھی خطرات کا سامنا کر رہے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریئسس نے کانگو کے دورے کے دوران حکام پر زور دیا کہ وبا کے خلاف کام کرنے والے کارکنوں کو مناسب تحفظ اور مدد فراہم کی جائے۔

طبی امدادی ادارے ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز (ایم ایس ایف) نے کہا ہے کہ ایبولا کی وبا “خطرناک اور غیر معمولی رفتار” سے پھیل رہی ہے اور موجودہ اقدامات متاثرہ برادریوں تک بروقت نہیں پہنچ رہے۔ ادارے نے خبردار کیا کہ ہر گزرتا دن وائرس کو مزید پھیلنے کا موقع دے رہا ہے اور فوری اقدامات نہ کیے گئے تو مزید جانیں ضائع ہو سکتی ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں