میانمار میں 7.7 شدت کا ہولناک زلزلہ، درجنوں افراد لاپتہ

میانمار کے وسطی علاقے میں جمعے کے روز شدید زلزلے کے جھٹکوں سے زمین لرز اٹھی۔ امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق، مقامی وقت کے مطابق دوپہر 12 بج کر 50 منٹ پر سگائنگ شہر کے شمال مغرب میں 16 کلومیٹر کے فاصلے اور 10 کلومیٹر گہرائی میں 7.7 شدت کا زلزلہ ریکارڈ کیا گیا۔ زلزلے کے بعد 6.8 شدت کا آفٹر شاک بھی محسوس کیا گیا، جس سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق زلزلے کے نتیجے میں 50 سے زائد افراد کے لاپتہ ہونے کی خبریں موصول ہوئی ہیں، جبکہ متعدد ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ سگائنگ کے تاریخی برج کے کچھ حصے بھی گرنے کی اطلاعات ہیں۔

زلزلے کے جھٹکے پڑوسی ملک تھائی لینڈ کے شمالی حصوں تک محسوس کیے گئے، جہاں دارالحکومت بنکاک میں فلک بوس عمارتیں لرز اٹھیں۔ چٹوچک کے علاقے میں ایک زیر تعمیر عمارت منہدم ہونے سے 43 مزدور ملبے تلے دب گئے۔ تھائی حکام کے مطابق میٹرو اور ریل سروسز کو عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔ تھائی وزیراعظم پیٹونگتھرن شنواترا نے ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے تاکہ نقصانات کا جائزہ لیا جا سکے۔

چین کے صوبے یونان میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، جہاں چین کے ارضیاتی مرکز کے مطابق شدت 7.9 ریکارڈ کی گئی۔

سوشل میڈیا پر زلزلے کے ہولناک مناظر تیزی سے وائرل ہو رہے ہیں۔ ویڈیوز میں بلند عمارتوں کے جھولنے، انفینٹی پولز سے پانی بہنے اور لوگوں کے سڑکوں پر خوف کے عالم میں دوڑنے کے مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔ ایک ویڈیو میں ایک کثیر المنزلہ عمارت زمین بوس ہوتے ہوئے بھی دکھائی گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق میانمار خطے میں اس نوعیت کے زلزلے غیر معمولی نہیں۔ 1930 سے 1956 کے درمیان سگائنگ فالٹ لائن کے قریب سات شدت یا اس سے زائد کے چھ بڑے زلزلے آ چکے ہیں۔ 2016 میں باگان شہر میں 6.8 شدت کے زلزلے سے تین افراد جان کی بازی ہار گئے تھے اور تاریخی مندروں کو نقصان پہنچا تھا۔

اپنا تبصرہ لکھیں