پراسرار بیماریوں کا شکار ہونیوالے پاکستانی کھلاڑی

عامر خاکوانی

کھلاڑیوں کی فٹنس عام لوگوں سے بہت بہتر ہوتی ہے، مگر بعض بیماریاں اتنے سپرفٹ کھلاڑیوں کو بھی بری طرح متاثر کرتی ہیں۔ ماضی میں پاکستان کے دو کرکٹر مختلف بیماریوں کا شکار ہو کر اپنا کیرئر ختم کرا بیٹھے، اس بار فخر زماں خوش نصیب نکلے اور وہ صحت یاب ہوچکے ہیں۔

 عابد علی پاکستان کے اچھے کامیاب اوپنر تھے، ٹیسٹ کرکٹ میں وہ اپنی جگہ مستحکم کر چکے تھے، اچانک انہیں دل کا دورہ پڑا اور پتہ چلا کہ بلاکیج ہے، انہیں سٹنٹ ڈالے گئے، اس کے بعد وہ صحت یاب ہو کر ڈومیسٹک کرکٹ تو کھیل رہے ہیں، مگر لگتا ہے کرکٹ بورڈ انہیں سخت مسابقتی انٹرنیشنل کرکٹ کے لئے موزوں نہیں سمجھتا۔ عابد علی اگر بیمار نہ پڑتے تو چھ سات سال مزید کرکٹ کھیل سکتے تھے ، اس بیماری نے انٹرنیشنل کیرئر ختم کر دیا۔

 عمران نذیر جارحانہ انداز سے کھیلنے والے ایک اور اوپنر تھے ۔ وہ مقبول کرکٹر تھے ، اچانک ان کا کیرئر ختم ہوگیا۔ بعد میں کئی سال بعد انہوں نے ایک ٹی وی انٹرویو میں انکشاف کیا کہ وہ ایک ایسی پراسرار سی بیماری کا شکار ہوگئے تھے جس سے ان کے  مسلز اور ہڈیاں بری طرح متاثرہوئیں۔ عمران نذیر کے بقول ان کے لئے چلنا بھی دوبھر ہوگیا تھا۔

  اس مشکل وقت میں جبکہ بیماری طول پکڑ گئی، کیرئر ختم ہوگیا اور پیسے بھی ، تب شاہد آفریدی ان کی مدد کو پہنچے اور اپنی جاننے والے ڈاکٹروں سے بہترین علاج کرایا۔ عمران نذیر صحت یاب تو ہوگئے، مگر وقت گزر چکا تھا، ان کی فارم اور فٹنیس ایسی نہ رہی کہ وہ انٹرنیشنل کرکٹ کھیل سکتے۔

  پاکستانی وائٹ بال کرکٹ کے ایک اور بڑے سٹار فخر زماں پچھلے چند ماہ ٹیم سے باہر رہے۔ ان کے بارے میں کہا گیا کہ وہ انجرڈ ہیں ۔ اب خیر وہ صحت یاب ہو کر سہہ ملکی ٹورنامنٹ اور چیمپینز ٹرافی کے سکواڈ میں شامل ہیں۔

  فخر زماں نے ایک حالیہ انٹرویو میں بتایا ہے کہ وہ انجرڈ نہیں بلکہ بیمار تھے۔ فخر زماں کے مطابق انہیں ہائپر تھائیرائیڈ ہوگیا تھا ، اس بیماری کی فوری تشخیص بھی نہیں ہوسکی، کئی ماہ بعد اس کا درست اندازہ ہوا۔ اس بیماری سے ریکورہونے میں خاصا وقت لگا ، فخر زمان کا اس بیماری میں دس کلو وزن کم ہوا۔

 فخر زماں کا کہنا ہے کہ اب وہ ٹھیک ہیں، مگر واپسی کے بعد چار پانچ میچ مشکل لگے، یوں محسوس ہوا جیسے کھیلنا ہی بھول گیا ہوں، رفتہ رفتہ ردھم بنتا چلا گیا اور اب وہ سو فی صد فٹ ہیں۔ فخر زماں نےآٹھ سال پہلے چیمپینز ٹرافی سے شہرت پائی تھی، انہوں نے فائنل میں انڈیا کے خلاف سنچری بنا کر پاکستان کو چیمپین بنوایا تھا۔ وہ اس بار بھی چیمپینز ٹرافی کو اپنے اور ملک کے لئے یادگار بنانے کا عزم رکھتے ہیں۔ فخر زماں کا کہنا ہے کہ وہ انڈیا کے خلاف میچ عام انداز سے کھیلتے ہیں، بغیر کسی پریشر کے ۔ اس بار بھی ایسا ہی ہوگا۔

 فخر زماں خوش نصیب نکلے کہ بروقت تشخیص اور درست علاج نے ان کی واپسی کرا دی تاہم عابد علی اور عمران نذیر اتنے خوش نصیب نہ تھے، ان کا کیرئر ہی ختم ہو گیا۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں