شوگر کے مریضوں کو ایک بنیادی بات یاد رکھنی چاہیے کہ ان کے لئے اضافی وزن نقصان دہ ہے۔ اگر وہ اپنا کچھ وزن کم کر لیں تو ان کی شوگر مینجمنٹ بہتر ہوجائے گی۔ دراصل اضافی وزن انسولین کی مزاحمت میں اضافہ کرتا ہے، جس سے آپ کے جسم کا قدرتی انسولین اپنا کام کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ وزن کم کرنے سے A1C کی سطح (جو کہ خون میں شکر کی اوسط سطح کو دو سے تین مہینے کے عرصے میں ظاہر کرتی ہے) کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ جبکہ وزن بڑھنے سے شوگر پر منفی اثرات پڑتے ہیں۔
اپنی خوراک میں معمولی تبدیلیاں بہت بڑا فرق لا سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر، صحت مند ناشتہ جیسے کہ خشک میوے اپنے ساتھ رکھیں، جو دن بھر آپ کو چپس، پاپ کارن، کولڈ ڈرنک وغیرہ کے خریداری سے دور رکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اپنے کھانے کی منصوبہ بندی کریں اور سمجھداری سے کھانے کے انداز کو اپنائیں تاکہ کامیابی کے امکانات بڑھ جائیں۔
مثال کے طور پر، میڈیٹیرینین غذا آزمائیں، جو پھلوں، سبزیوں، مکمل اناج، دالوں، خشک میوے، اور زیتون کے تیل سے بھرپور ہوتی ہے، اور اس میں معتدل مقدار میں مچھلی اور مرغی شامل ہوتی ہے۔ یہ غذا بلڈ پریشر کو بہتر بنانے، ٹرائیگلیسرائیڈز اور خراب کولیسٹرول (LDL) کی سطح کو کم کرنے، اچھے کولیسٹرول (HDL) کی سطح بڑھانے اور خون میں شوگر کی سطح کو کنٹرول کرنے میں مدد دیتی ہے۔
ٹائپ 2 ذیابیطس پر میڈیٹیرینین غذا کے اثرات پر کی گئی تحقیق کے جائزے کے مطابق، اس طرزِ غذا کو اپنانے سے نہ صرف A1C کی سطح کم ہوتی ہے بلکہ یہ ذیابیطس کی روک تھام میں بھی موثر ثابت ہوتی ہے۔
مزید برآں، باقاعدہ ورزش کی اہمیت کو نظرانداز نہ کریں۔ ٹائپ 2 ذیابیطس کے مریضوں کے لیے جسمانی سرگرمی خون میں شکر کو مستحکم رکھتی ہے، بلڈ پریشر کم کرتی ہے، دل کی صحت بہتر بناتی ہے، اور مجموعی معیارِ زندگی کو بڑھاتی ہے۔