پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلی فون پر بات چیت کی جس میں خطے کی صورتحال اور امن کے لیے جاری سفارتی کوششوں پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
پاکستان کے دفترِ خارجہ نے اتوار کی شب بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن اور استحکام کے حوالے سے جاری کوششوں پر تفصیلی بات چیت کی ۔
دفترِ خارجہ کے مطابق ایرانی وزیرِ خارجہ نے مختلف فریقوں کے درمیان پاکستان کے تعمیری کردار اور ثالثی کی کوششوں کو سراہا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسحاق ڈار نے اس بات پر زور دیا کہ مسائل کے حل اور خطے میں دیرپا امن کے لیے بات چیت اور سفارت کاری ہی مؤثر راستہ ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران نے کہا ہے کہ امریکہ نے اس کی نئی امن تجویز کا جواب دے دیا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق امریکہ نے پاکستان کے ذریعے ایران کی 14 نکاتی تجویز پر اپنا ردِعمل بھجوایا ہے اور تہران اس کا جائزہ لے رہا ہے۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مثبت بات چیت جاری ہے جو اچھے نتائج کی طرف بڑھ سکتی ہے۔
امریکی ویب سائٹ ایگزیوس اور قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کی رپورٹس کے مطابق ایرانی تجویز میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے، امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے اور جنگ کے خاتمے کے لیے مرحلہ وار منصوبہ شامل ہے۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اس منصوبے میں ایران کے خلاف حملوں سے گریز، پابندیوں میں نرمی اور مشرقِ وسطیٰ میں وسیع سکیورٹی مذاکرات کی تجاویز بھی شامل ہیں۔
ادھر امریکی سنٹرل کمانڈ نے تحویل میں لیا گیا ایرانی جہاز عملے سمیت پاکستان کے حوالے کر دیا ہے جس کی وزرات خارجہ نے تصدیق بھی کی ہے ۔ پاکستانی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ ‘امریکہ کی جانب سے اعتماد سازی کے اقدام کے طور پر ضبط کیے گئے ایرانی کنٹینر جہاز ‘ایم وی توسکا’ پر موجود 22 ایرانی عملے کے ارکان کو پاکستان منتقل کر دیا گیا ہے۔’