انصارعباسی صاحب نے خواتین کے مخلوط جم کے حوالے سے وزیر اعظم سے ایک مطالبہ کیا اور جواب میں ناقدین انصار عباسی پر برس پڑے۔ دونوں کا اپنا اپنا موقف ہے، اس لیے اس معاملے کو کسی ایک فریق کے موقف کی بنیاد پر جانچنے کی بجائے آئیے آئین پاکستان کی بنیاد پر جانچتے ہیں اور دیکھتے ہیں کون درست کہہ رہا ہے؟
پاکستان کے دستور کے آرٹیکل 31 میں لکھا ہے کہ ریاست پاکستان کے شہریوں کو ایسا ماحول فراہم کرے گی، ایسی سہولیات دے گی ا ور ایسے اقدامات کرے گی جن کے نتیجے میں وہ اس قابل ہو سکیں کہ وہ قرآن سنت کی روشنی میں اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا مفہوم سمجھ سکیں۔
اب اگر پاکستان کا آئین یہ کہہ رہا ہے کہ ریاست ایسا ماحول فراہم کرے گی اور ایسے اقدامات کرے گی تو پاکستان کا ایک شہری اپنی ریاست سے یہ مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 31کے تحت اپنی ذمہ داری ادا کرے تو اس میں غلط کیا ہے؟
آپ اس مطالبے سے اتفاق کریں یا اتفاق نہ کریں لیکن آپ اس حقیقت سے اختلاف نہیں کر سکتے کہ یہ مطالبہ آئین پاکستان کی روح کے عین مطابق کیا جانے والا مطالبہ ہے۔
اسی طرح پاکستان کے آئین کے دیباچے میں لکھا ہوا ہے کہ حاکمیت اعلیٰ اللہ تعالیٰ کی ہے اور پاکستانی عوام کے نمائندے اپنے اقتدار کو اللہ کی طرف سے دی گئی امانت کے طور پر استعمال کریں گے۔ یعنی پاکستان کی جمہوریت مغربی تصور جمہوریت سے مختلف ہے۔ پاکستان میں ملائیت تو نہیں ہے لیکن پاکستان کی جمہوریت مغربی جمہوریت کی طرح بھی نہیں ۔ پاکستان میں ملائیت کی بجائے پارلیمان فیصلہ ساز ہے لیکن پارلیمان کے پاس یہ اختیار اللہ کی امانت ہے۔ پارلیمان حاکم اعلی نہیں ہے ، حاکمیت اعلی اللہ کی ہے۔
یہاں جو جمہوری قوتیں ہیں وہ فیصلہ سازی میں مکمل آزاد نہیں ہیں بلکہ ان پر آئین کی روح سے یہ پابندی ہے کہ وہ قرآن و سنت کے متعین دائرے کے اندر رہ کر قانون سازی کر سکتی ہیں۔
اسی طریقے سے پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 2 میں یہ بات بھی طے کر دی گئی ہے کہ ریاست کا مملکتی مذہب اسلام ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ یہ سیکولر ریاست ہے اور یہاں پر ہر آدمی اپنی خواہش کے مطابق قانون سازی کر لے گا۔ یہاں مسلمانوں کی اجتماعیت یہ فیصلہ کر چکی ہے کہ ریاست کا مملکتی مذہب اسلام ہے۔ یہاں آئین میں یہ طے ہو چکا ہے کہ قرآن و سنت سےمتصادم کوئی قانون نہیں بنے گا ۔ یہاں حاکمیت اعلیٰ اللہ تعالیٰ کی ہے اور یہ قرار دیا جا چکا ہے۔ ان چیزوں کے بعد اگر انصار عباسی یہ مطالبہ کرتے ہیں تو اس مطالبے میں کیا غلط ہے؟
دوسرا سوال یہ ہے کہ انتہا پسند کسے کہا جاتا ہے؟ انصار عباسی صاحب نے ایک معقول لہجے میں ایک مطالبہ کیا اور جواب میں انصار عباسی صاحب کی تضحیک اور توہین کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا تو شدت کس کے رویے میں ہے؟ جس انداز سے مطالبہ کیا گیا کیا اسی شائستگی سے اختلاف نہیں کیا جا سکتا تھا؟ اختلاف میں تضحیک اور تذلیل کیوں؟
ایک آدمی آئینی مطالبہ کر رہا ہے اور دوسرے اس کی تضحیک کر رہے ہیں اور اس پر فقرے کس رہے ہیں اور اسے لعن طعن کر رہے ہیں تو انتہا پسند کون ہے اور شدت پسند کون ہے؟ ایک شہری آئین کے آرٹیکل 31 کے مطابق ایک مطالبہ کر رہا ہے اور اسے انتہا پسند کہا جا رہا ہے۔
سمجھنے کی بات یہ ہے کہ انتہا پسندی اور شدت پسندی کا تعلق حلیے سے نہیں رویے سے ہوتا ہے۔ یعنی یہ ضروری نہیں کہ شدت پسند اور انتہا پسند وہ ہوگا جس نے داڑی رکھی ہوگی اور جو اس کا حلیہ مذہبی ہوگا یا وہ جو مذہبی پیرائے میں بات کرے گا بلکہ بظاہر روشن خیالی کا دعویٰ کرنے والے بھی اپنے مزاج اور افعالِ طبع کے حوالے سے بدترین انتہا پسند اور بدترین شدت پسند ہو سکتے ہیں اور یہ اس معاملے میں بالکل واضح ہو رہا ہے۔
ایک سوال یہ بھی ہے کہ کیا پاکستان کا لبرل طبقہ آئینِ پاکستان کو مانتا ہے؟ پاکستان میں لبرل اور سیکولر حضرات سے یہ سوال پوچھا جانا چاہیے کہ کیا وہ پاکستان کے آئین کے دیباچے میں دی گئی اس بات کو مانتے ہیں کہ حاکمیت اللہ تعالیٰ کی ہے؟ کیا وہ اس بات کو مانتے ہیں کہ ریاست کا مملکتی مذہب اسلام ہے؟ اور کیا وہ اس بات کو مانتے ہیں جو بات پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 31 میں کی گئی ہے؟
اگر وہ اس بات کو مانتے ہیں تو پھر انصار عباسی صاحب کے اوپر تضحیک آمیز فقرہ بازی کس لیے اور کیوں ؟ اور اگر وہ اس بات کو نہیں مانتے تو پھر وہ تسلیم کیوں نہیں کر لیتے کہ وہ شدت پسند اور فاشسٹ ہیں جو آئین کو بھی تسلیم نہیں کرتے؟
جمہوریت کیا ہے؟ کیا جمہوریت میں لوگوں کا یہ حق نہیں کہ وہ اپنے لیے طے کر لیں کہ انہوں نے کس نظام کے تحت رہنا ہے؟ اگر پاکستان کے عوام اپنے آئین میں طے کر چکے ہیں کہ انہوں نے اسلامی اصولوں کے تحت معاشرہ بنانا ہے تو اس حق پر اعتراض کیا جمہوریت کے تصور کی نفی نہیں؟
آپ لوگوں کو اسلام کی بات کرنے پر بھی پسند نہیں کرتے اور آئین کی بات کرنے پر بھی انہیں مورد الزام ٹھہراتے ہیں ، کیا اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ انتہا پسند ہیں ۔ آپ اسلام بے زار انتہا پسند ہیں ۔ اور جہاں بات اسلام کی آ جائے تو آپ کی انتہا پسندی بے قابو ہو جاتی ہے اور پھر آپ اکثریت کے فیصلے کو نہیں مانتے ۔ آپ آئین کو نہیں مانتے اور کوئی حکومت سے آئین کے مطابق کوئی مطالبہ کرے تو آپ اسے بھی ملامت کرنے لگ جاتے ہیں۔
یہ کیسی انتہا پسندی ہے کہ مغرب کے تصور حیات سے ہٹ کر سوچنے والوں کو لعن طعن کی جاتی ہے؟ انصار عباسی نے یہ نہیں کہا کہ خواتین جم نہ جائیں ۔ یہ بھی نہیں کہا کہ وہ طاقت سے روکیں گے۔ انہوں نے مخلوط جم پر اعتراض کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر صرف جم کرنا ہی مقصود ہے تو مخلوط جم پر اتنا اصرار کیوں؟