دنیا کا وہ ملک جہاں 96 سال سے کوئی بچہ پیدا نہیں ہوا

ویٹی کن سٹی دنیا کا سب سے چھوٹا ملک ہے، جہاں 1929 سے آج تک کوئی بچہ پیدا نہیں ہوا۔ اس ملک کی تشکیل 11 فروری 1929 کو ہوئی تھی اور یہ کیتھولک چرچ کا روحانی و انتظامی مرکز ہے۔ یہاں زیادہ تر رہائشی مذہبی شخصیات، پادری، گارڈز اور سفارتی عملے پر مشتمل ہوتے ہیں، جو عارضی بنیادوں پر یہاں قیام کرتے ہیں۔
ویٹی کن سٹی میں کوئی اسپتال نہیں ہے، اور اگر کوئی بیمار ہو جائے یا کسی حاملہ خاتون کو طبی امداد کی ضرورت ہو تو انہیں روم کے اسپتالوں میں منتقل کر دیا جاتا ہے۔ ملک میں اسپتال نہ ہونے کی بنیادی وجوہات میں اس کا چھوٹا رقبہ، مستقل آبادی کا نہ ہونا اور یہاں رہنے والوں کی مخصوص طرزِ زندگی شامل ہیں۔
ویٹی کن سٹی کے علاوہ کچھ اور مقامات بھی ایسے ہیں جہاں پیدائش نہ ہونے کے برابر ہے، جیسے کہ برطانوی زیر انتظام پٹکیرن جزائر، جہاں کی آبادی 50 سے بھی کم افراد پر مشتمل ہے اور یہاں کئی سالوں سے کوئی بچہ پیدا نہیں ہوا۔ اسی طرح انٹارکٹیکا میں بھی انسانی پیدائش کی کوئی اطلاع موجود نہیں کیونکہ وہاں مستقل انسانی آبادی نہیں بلکہ صرف سائنسی تحقیقاتی ٹیمیں قیام کرتی ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ویٹی کن سٹی دنیا کے سب سے چھوٹے ریلوے اسٹیشن کا بھی مالک ہے، جو پوپ پیئس الیون کے دور میں بنایا گیا تھا۔ اس کا ریلوے نظام صرف کارگو ٹرانسپورٹ کے لیے استعمال ہوتا ہے اور اس کے دو ٹریک صرف 300 میٹر طویل ہیں۔ ویٹی کن سٹی اپنی مذہبی حیثیت، محدود آبادی اور منفرد طرزِ زندگی کی وجہ سے دنیا کا واحد ملک ہے جہاں 96 سال سے کوئی بچہ پیدا نہیں ہوا۔

اپنا تبصرہ لکھیں