بھارت کو انٹرنیشنل کرکٹ کا بادشاہ بنانے والے کرکٹ بورڈز اب خود اس کی من مانیوں سے تنگ آ چکے ہیں۔ مالی فوائد کے لیے بھارت کی ہاں میں ہاں ملانے والے ممالک اب اس کو ملنے والی رعایتوں پر کھل کر تنقید کر رہے ہیں۔
موجودہ اور سابق کرکٹرز جیسے پیٹ کمنز، اسٹیو اسمتھ، مائیکل ایتھرٹن، ناصر حسین، اور جوناتھن ایگنیو کے بعد برطانوی میڈیا نے بھی بھارت کو چیمپئنز ٹرافی میں دیے جانے والے خصوصی فوائد پر سوالات اٹھا دیے۔
چیمپئنز ٹرافی کے دوران زیادہ تر ٹیموں کو دو مختلف ممالک کے درمیان ہزاروں کلومیٹر کا سفر کرنا پڑا، مگر بھارتی ٹیم کو اس زحمت سے بھی محفوظ رکھا گیا۔بھارت نے تمام میچز دبئی میں ہی کھیلے، یعنی اسے ایک بھی کلومیٹر سفر نہیں کرنا پڑا جبکہ نیوزی لینڈ سب سے زیادہ متاثر ہوا، جسے 7048 کلومیٹر کا سفر کرنا پڑا۔کیوی کپتان، مچل سینٹنر نے بھی بھارت کو دیے جانے والے ایڈوانٹیج پر تحفظات کا اظہار کیا۔
برطانوی اخبار ‘ٹیلی گراف’ نے بھارت کو ایک ہی گراؤنڈ پر میچز دینے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے طنز کیا کہ، چیمپئنز ٹرافی کے فائنل میں ٹاس کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ بھارتی کپتان سے پوچھ لیا جائے کہ، انہیں بیٹنگ کرنی ہے یا بولنگ۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ، بھارت کو انٹرنیشنل کرکٹ میں خصوصی رعایتیں دی جا رہی ہیں۔بھارتی کرکٹ بورڈ (BCCI) کی مالی طاقت کی وجہ سے بڑے فیصلے بھارت کے حق میں کیے جا رہے ہیں۔ٹورنامنٹ شیڈولنگ سے لے کر میچ آفیشلز کے فیصلوں تک، بھارت کی مرضی چلتی دکھائی دیتی ہے۔
دیگر ٹیمیں اور کرکٹ بورڈز اگرچہ کھل کر BCCI کے خلاف بولنے سے ہچکچاتے ہیں، لیکن پس پردہ شدید ناراضی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔