ایران-اسرائیل جنگ شروع ہونے سے قبل چین نے اپنے تیل کی درآمدات میں نمایاں اضافہ کیا، رپورٹ

امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، سال 2026 کے ابتدائی دو مہینوں میں، مشرقِ وسطیٰ میں جنگ اور کشیدگی شروع ہونے سے پہلے، چین نے اپنے تیل کی درآمدات میں نمایاں اضافہ کیا۔ اس اقدام کا مقصد عالمی سیاسی کشیدگی اور ممکنہ توانائی بحران کے ممکنہ اثرات سے اپنی معیشت کو محفوظ رکھنا تھا۔

سرکاری کسٹمز اعداد و شمار کے مطابق، چین نے جنوری اور فروری میں گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں تقریبا 15.8 فیصد زیادہ خام تیل درآمد کیا۔ ان دو مہینوں میں چین نے تقریبا 96.9 ملین ٹن خام تیل خریدا، جو یومیہ اوسطا تقریبا ایک کروڑ انیس لاکھ بیرل بنتا ہے۔

ماہرین کے مطابق، چین گزشتہ ایک سال سے تیل کے بڑے ذخائر جمع کر رہا ہے تاکہ عالمی سطح پر ممکنہ بحران یا جنگ کی صورت میں توانائی کی قلت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اندازوں کے مطابق، چین کے پاس اس وقت تقریبا ایک اعشاریہ دو ارب بیرل تیل کے ذخائر موجود ہیں، جو سمندری راستوں سے آنے والی درآمدات کے تقریبا ایک سو پندرہ دن کے برابر ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ چینی حکام پہلے ہی عالمی سیاسی کشیدگی کے امکانات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیاری کر رہے تھے۔ ان کے مطابق، تیل کا ذخیرہ جمع کرنا ایک حکمت عملی کا حصہ تھا جو بعد میں ایک دانشمندانہ قدم ثابت ہوا۔

مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے باعث آبنائے ہرمز کے راستے تیل کی ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے۔ یہ تنگ سمندری گزرگاہ دنیا بھر میں سپلائی ہونے والے تیل کے تقریبا پانچویں حصے کی ترسیل کا اہم راستہ ہے۔ چین اپنی سمندری راستوں سے آنے والی خام تیل کی درآمدات کا تقریبا نصف حصہ اسی خطے سے حاصل کرتا ہے، اس لیے چین توانائی کی حفاظت کے لیے اضافی اقدامات پر غور کر رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق، چین ضرورت پڑنے پر اپنے تیل صاف کرنے والے کارخانوں کو ہدایت دے سکتا ہے کہ وہ ایندھن کی برآمدات عارضی طور پر روک دیں اور اپنے ذخائر سے تیل فراہم کر کے ملکی سپلائی کو مستحکم رکھیں۔

دوسری جانب چین نے روس سے بھی تیل کی خریداری میں اضافہ کیا ہے، کیونکہ کچھ ممالک نے روسی تیل کی خرید کم کر دی تھی جس کے باعث چین کو نسبتا کم قیمت پر تیل دستیاب ہو گیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ چین کی یہ حکمت عملی عالمی توانائی منڈی میں ممکنہ بحران کے اثرات کو کم کرنے اور اپنی معیشت کو مستحکم رکھنے کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہو سکتی ہے۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں