امریکا کی یونیورسٹی آف کیلیفورنیا برکلے کے سائنسدانوں کی نئی تحقیق میں گہری نیند کے دوران دماغی لہروں میں تبدیلی، یادداشت کی کمزوری اور الزائمر سے منسلک ٹاؤ پروٹین کے جمع ہونے کے درمیان تعلق سامنے آیا ہے۔ یہ تحقیق 11 ستمبر کو سائنسی جریدے نیچر نیورو سائنس میں شائع ہوئی۔
تحقیق کے مطابق گہری یا نان ریم نیند کے دوران دماغ میں آہستہ لہریں پیدا ہوتی ہیں، جو دماغ کے مختلف حصوں میں منظم انداز میں سفر کرتی ہیں۔ یہ عمل دن بھر حاصل ہونے والی معلومات اور یادوں کو طویل مدتی یادداشت میں محفوظ کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
محققین نے نوجوان اور بڑی عمر کے صحت مند افراد کی نیند کے دوران دماغی سرگرمی کا جائزہ لیا۔ نتائج میں دیکھا گیا کہ نوجوان افراد میں آہستہ دماغی لہریں زیادہ فاصلے تک اور بہتر ہم آہنگی کے ساتھ سفر کرتی تھیں، جبکہ بڑی عمر کے افراد میں یہ لہریں نسبتاً مختصر اور کم منظم تھیں۔
پی ای ٹی اسکین سے معلوم ہوا کہ بڑی عمر کے جن افراد کے دماغ کے سامنے والے حصے میں ٹاؤ پروٹین زیادہ جمع تھا، ان میں گہری نیند کی دماغی لہریں بھی زیادہ متاثر تھیں۔ ایسے افراد نے رات کو دی گئی معلومات کو اگلے دن یاد رکھنے کے ٹیسٹ میں بھی نسبتاً کم کارکردگی دکھائی۔
تحقیق میں شامل بعض افراد کا کئی سال بعد دوبارہ جائزہ لیا گیا۔ جن افراد میں وقت کے ساتھ ٹاؤ پروٹین کی مقدار بڑھی، ان میں گہری نیند کی لہروں کی ہم آہنگی اور رات بھر یادداشت محفوظ رکھنے کی صلاحیت میں بھی کمی دیکھی گئی۔ ایک علیحدہ گروپ میں ریڑھ کی ہڈی کے سیال کے ٹیسٹ سے بھی اسی نوعیت کا تعلق سامنے آیا۔
محققین نے واضح کیا ہے کہ تحقیق یہ ثابت نہیں کرتی کہ گہری نیند کی کمی براہِ راست الزائمر کا سبب بنتی ہے یا ٹاؤ پروٹین ہی نیند میں خرابی پیدا کرتا ہے۔ تاہم نتائج سے دونوں کے درمیان اہم تعلق سامنے آیا ہے، جو الزائمر کی علامات ظاہر ہونے سے پہلے بھی موجود ہو سکتا ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق اب یہ جاننا اہم ہوگا کہ ٹاؤ پروٹین اور گہری نیند میں خرابی میں سے کون سا عمل پہلے شروع ہوتا ہے۔