اسرائیل میں دو طرح کے فلسطینی عرب رہتے ہیں ۔ ایک وہ جو اس اسرائیل کی حدود میں رہتے ہیں جو اقوام متحدہ نے فلسطین کو ناجائز طور پر تقسیم کر کے بنایا ۔ یہ وہ فلسطینی ہیں جو اسرائیلی الیکشن میں ایک شہری کے طور پر ووٹ دیتے ہیں۔ حالیہ اسرائیلی الیکشن میں جو عرب جماعتوں کی بات ہو رہی ہے وہ یہی لوگ ہیں ۔
دوسرے وہ فلسطینی ہیں جو اسرائیل میں نہیں بلکہ ان علاقوں میں رہ رہے ہیں جو اقوام متحدہ کے نزدیک فلسطین کا حصہ ہیں اور اسرائیل ان پر قابض ہے اور اس کا قبضہ ناجائز ہے ۔ مشرقی یروشلم یعنی القدس اور مسجد اقصی ،سمیت سارا مغربی کنارہ اور ( عملا غزہ بھی) اس میں شامل ہے۔ یہ اسرائیل کے شہری نہیں ہیں ، نہ ہی انہوں نے الیکشن میں ووٹ دیا ہے ۔ یہ ریزیڈنٹ کارڈ پر رہ رہے ہیں کیونکہ ان کا علاقہ مقبوضہ ہو چکا ہے۔ اور وہ بین الاقوامی قانون کے مطابق اسرائیل کا حصہ نہیں ہے۔
اب ہو یہ رہا ہے کہ مغربی کنارے کےان مقبوضہ علاقوں میں اسرائیل نے اقوام متحدہ کے قوانین کو پامال کرتے ہوئے اپنی یہودی بستیاں قائم کی ہوئی ہیں جنہیں فوجی تربیت دے کر وہاں بسایا گیا ہے۔ یہ آباد کار کہلاتے ہیں۔ ان ناجائز آبادیوں کے یہ ناجائز مقیم جو فوجی تربیت یافتہ بھی ہیں ، یہاں کے فلسطینیوں کے خلاف دہشت گرد ی کی کارروائیاں کرتے رہتے ہیں، ان کے کھیتوں پر حملے کرتے ہیں ، ان کی تیار فصلوں کو جلاتے ہیں ، مساجد کی بے حرمتی کرتے ہیں ، قتل وغارت بھی کرتے ہیں ۔ اس وقت یہاں زیتون کی فصل اتاری جا رہی ہے اور اکتوبر کے ان دنوں میں ، جی ہاں صرف اکتوبر میں ، صرف مغربی کنارے کے 13 فلسطینی گاؤں میں یہودی آبادکاروں نے 482 حملے کیے ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ یہاں قابض مقیم ان ناجائز اسرائیلی شہریوں کا قانون کی نظر میں کیا مقام ہے؟ کیا وہ عام شہری ہیں یا جنگ جو اور دہشت گرد؟
راجر گراڈی نے اپنی کتاب میں تفصیل سے بتایا ہے کہ ان مظالم میں اسرائیل کی فوج کے ساتھ ساتھ یہ settlers بھی شامل رہے ۔یہ محض سیٹلرز نہیں ہیں ، یہ فوجی کارروائیوں میں باقاعدہ شریک ہونے والے جنگی مجرم ہیں۔ ان settlers کے ہاتھوں فلسطینوں پر ہونے والے مظالم کی فہرست بہت طویل ہے۔ ان کی جان، مال ، عزت ، آبرو ، مذہب ہر چیز کو ان settlers نے نشانہ بنایا ہے۔
اقوام متحدہ کے آفس فار کوآرڈینیشن آن ہیومن افیئرز کے مطابق زیتون کے درختوں کو جلانا اور جڑ سے اکھاڑ دینا ان settlers کا ایک مرغوب طریق واردات ہے کیوں کہ اس سے فلسطینیوں کی معیشت جڑی ہوئی ہے۔ صرف 2 سالوں میں ان ناجائز آبادکار یہودیوں کے ہاتھوں 18 ہزار سے زائد زیتون کے درختوں کو نقصان پہنچا۔
ایمنسٹی انٹر نیشنل کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ ناجائز آبادکار فلسطینیوں کی زرعی معیشت کو تباہ کرنے کے لیے ان کے جانوروں کو زہر بھی دے دیتے ہیں ۔ آئرش ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق صرف ایک رات کے حملے میں زیتون کے پندرہ سو سے 2 ہزار درختوں کو جلا دیا گیا۔ اسرائیلی اخبار Haretz کے مطابق ان آبادکاروں کے جرائم کو ایک طرح سے قانونی تحفظ دیا گیا ہے اوراسرائیلی پولیس کو درج کرائی گئی 97 فیصد سے زائد درخواستیں بغیر کسی کارروائی کے نبٹا دی جاتی ہیں۔
ان کے لیے 10 ملین ڈالر سالانہ کا بجٹ رکھا گیا اور اس کے عوض ان سے ( بظاہر) جاسوسی وغیرہ کی خدمات لی جاتی ہیں لیکن ساتھ ہی انہیں قانون سے بچاؤ کی حفاظتی چھتری بھی مہیا کی گئی ہے ۔ اسرائیل میں قائم حقوق انسانی کے ایک ادارے “بتسلیم” کے مطابق جب یہ آبادکار فلسطینیوں پر مظالم کرتے ہیں تو آس پاس موجود اسرائیلی فوج انہیں بالکل نہیں روکتی اور اسرائیلی فوج کی یہ خاموشی اسرائیل کی پالیسی کا حصہ ہے۔ بلکہ دیکھا یہ گیا ہے کہ اسرائیلی فوج ان مظالم میں ان آبادکاروں کی معاونت کرتی ہے۔ بعض صورتوں میں یہ فوجی ان اسرائیلی آبادکاروں کے ساتھ مل کر فلسطینیوں پر ظلم کرتے ہیں یا پھر لاتعلق ہو کر دوسری طرف دیکھتے رہتے ہیں۔ان ناجائز آبادکار یہودیوں کے ہاتھوں فلسطینیوں پر فلسطینی علاقوں کے اندر ان مظالم کی درج شکایات میں سے 91 فیصد شکا یات کو بغیر کارروائی کے داخل دفتر کر دیا گیا۔
“بتسلیم” کا دعوی ہے کہ غزہ میں لڑائی کے نام پر اسرائیلی فوج ا ور ان آبادکاروں نے مل کر ان اطراف میں بھی مسلمانوں سے گاؤں کے گاؤں خالی کروا لیے ہیں اور ان پر قبضے کر لیے ہیں جو غزہ کی بجائے مغربی کنارے کی حدود میں واقع ہیں۔
ان آبادکاروں کی ان کارروائیوں پر قانونی پوزیشن یہ ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کو کوئی ختیار نہیں ، وہ قانونی طور پر ان کو گرفتار کر سکتی ہے نہ ان پر مقدمات قائم کر سکتی ہے۔ قانون یہ ہے کہ اسرائیلی یہودی آبادکار بھلے فلسطینی علاقوں میں بھی جا کر کارروائی کریں تب بھی ان کے خلاف شکایت اسرائیل جا کر اسرائیلی پولیس کو کرنا ہو گی۔ پھر یہ کہ ایک ہی علاقے میں اگر فلسطینی کے خلاف شکایت ہے تو اس پر مقدمہ فوجی قانون کے تحت بنے گا لیکن اگر اسرائیلی آباد کار کے خلاف شکایت ہے تو مقدمہ اسرائیل کے سول لا کے تحت قائم ہو گا۔
اسرائیلی ریاست کی سرپرستی میں ، اسرائیلی فوج اور ان مسلح آبادکاروں کے باہمی اشتراک کو اس زاویے سے بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ ان آبادکاروں کو دہشت گرد نہیں کہا جاتا ۔ ان کے لیے ویجیلانٹی vigilante کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔
یہ اصطلاح قابل غور ہے۔ ویجیلانٹی vigilante کے معنی کیا ہیں؟ اس کے معروف معنی یہ ہیں کہ یہ شہریوں کا ایک ایسا گروہ ہوتا ہے جو قانون کے نفاذ کو اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے ۔ یہ اگر چہ اس کی ذمہ داری نہیں ہوتی لیکن وہ یہ سمجھتا ہے کہ ریاستی ادارے موثر انداز میں یہ کام نہیں کر پا رہے تو ان کی جگہ قانون کے نفاذ کا فریضہ یہ انجام دے دے۔
یعنی یہ جرم نہیں ہے بلکہ جرم کو روکنے کے لیے کیا گیا اقدام ہے اور یہ ریاست سے بغاوت نہیں ہے بلکہ اس کی معاونت ہے۔ اس اصطلاح کا مستعمل ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ مسلح آبادکار جب مسلمانوں پر حملے کرتے ہیں تو اسرائیلی ریاست میں انہیں قاتل یا مجرم کے طور پر نہیں دیکھا جاتا ، بلکہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ ریاست ہی کے بازوئے شمشیر زن کے طور پر بروئے کار آ رہے ہیں۔ برائے وزن بیت ان پر تنقید ضرور ہوتی رہتی ہے لیکن اس کا عملی زندگی کی حقیقتوں سے کوئی تعلق نہیں۔ حقیقت یہی ہے کہ یہ ” سویلین” اسرائیلی فوج ہی کے عسکری سہولت کار ہیں۔
تل ابیب یونیورسٹی کے فارغ التحصیل اور اوپن یونیورسٹی آف اسرائیل کے پروفیسر یوگل لیوی کا کہنا ہے کہ یہ mercenaries ہیں اور جو کام انٹر نیشنل لا کی نزاکتوں کی وجہ سے باقاعدہ فوج نہیں کر سکتی وہ کام ان سے کروا لیا جاتا ہے تا کہ ریاست ذمہ داری سے بچ سکے۔ وہ لکھتے ہیں کہ اسرائیلی فوج نے ایک حکمت عملی کے تحت ان آباد کاروں کو مسلح کیا ہے اور حکومت نے اپنی اتھارٹی انہیں دے کر رکھی ہے اور یہ آباد کار ایک ملیشیا کے طور پر ریاست کی murky arm کا کردار ادا کر رہے ہیں ۔ یہ ریاست کا وہ بازو ہیں جو دکھائی نہیں دیتا مگر کام کرتا ہے۔
عذر یہ پیش کیا جاتا ہے کہ عربوں کے حملوں کے پیش نظر یہ آباد کار جوابی کارروائی کرتے ہیں۔ اس عذر کا کوئی قانونی اعتبار نہیں ۔ کیونکہ :
1. یہ آباد کار ناجائز طور پر زمینوں پر قابض ہیں جب کہ فلسطینی اپنے علاقے میں جائز طور پر آباد ہیں۔
2. آباد کاروں کا ان آبادیوں میں رہنا بذات خود ایک سوال ہے کیونکہ یہ آبادیاں جارحیت کے زمرے میں آتی ہیں اور ان کا جنگی جرائم میں شمار کیا جاتا ہے جب کہ فلسطینی اپنی زمینوں پر آباد ہیں اور یہ ان کا حق ہے۔
3. دفاع کا حق فلسطینیوں کو ہے ، آبادکاروں کی حیثیت غاصب کی ہے۔
4. نقصانات کا تناسب بتا رہا ہے کہ اس عمل میں فلسطینیوں کا جانی اور مالی نقصان ہوتا ہے۔ آبادکاروں کا نقصان تو بس اتنا ہی ہوتا ہے جو نہتے فلسطینی مزاحمت میں کر سکتے ہیں۔ ورنہ جانی ا ور مالی نقصان فلسطینیوں ہی کا ہوتا ہے جنہیں ان کے علاقوں سے بھی بے دخل کر دیا جاتا ہے ۔
5. دونوں کے لیے قوانین الگ ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ انٹر نیشنل لا اس معاملے میں کیا رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
جنیوا کنونشن کے ایڈیشنل پروٹوکول کے آرٹیکل 47 کا تعلق مرسنریز سے ہے اور اس میں لکھا ہے کہ یہ اگر گرفتار ہو جائیں تو انہیں جنگی قیدی کا درجہ بھی نہیں ملے گا۔
اقوام متحدہ کے International Convention against the Recruitment, Use, Financing and Training of Mercenaries میں مرسنریز تیار کرنے اور انہیں استعمال کرنے کی سخت ممانعت کی گئی ہے ۔
کنونشن کے آرٹیکل 2 میں کہا گیا ہے کہ جو کوئی بھی مرسنریز کو بھرتی کرتا ہے ، استعمال کرتا ہے ، مالی مدد دیتا ہے یا ان کی تربیت کرتا ہے ، وہ اس کنونشن کے تحت جرم کا مرتکب ہوتا ہے ۔ کنونشن کا آرٹیکل 5 تمام ریاستوں کو پابند کرتا ہے کہ وہ نہ تو مرسنریز کو بھرتی کریں گی ، نہ استعمال کریں گی ، نہ ان کی مالی معاونت کریں گی اور نہ ہی انہیں تربیت دیں گی۔
اسرائیل نہ صرف فلسطینی علاقوں میں ناجائز بستیاں بسا رہا ہے بلکہ وہ ان بستیوں میں فوجی تربیت یافتہ لوگ بسا رہا ہےا ور یہ لوگ فلسطینیوں پر ظلمو ستم کرتے ہیں اور ایک منظم منصوبے سے فلسطینیوں کا صفایا کر رہے ہیں اور دیہاتوں کے دیہات ان سے خالی کروائے جا رہے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ مغرب اور مغربی میڈیا کبھی اسے دہشت گردی یا جنگی جرائم نہیں کہے گی۔