امریکہ نے ایران کی جانب سے ممکنہ حملوں سے اسرائیل کے تحفظ کے لیے مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی طیاروں اور جنگی بحری جہازوں کی تعداد میں اضافہ کر دیا ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کو تنازعے سے پیچھے ہٹنے کا انتباہ دیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنی پوسٹس میں کہا کہ ایران کے ساتھ ان کا صبر کم ہوتا جا رہا ہے، جس سے امریکی مداخلت کے مزید گہرا ہونے کا امکان بڑھ گیا ہے، شاید اس میں ایران کی زیر زمین بنائی گئی اہم جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے بنکر بسٹر بم کا استعمال بھی شامل ہو۔
خبررساں ادارے اے پی کے مطابق امریکی عہدیداروں نے واضح کیا ہے کہ امریکی فوج نے ایران کے خلاف کوئی جارحانہ کارروائی نہیں کی، بلکہ اسرائیل کے دفاع کے لیے ایرانی میزائلوں کو روکنے کے لیے دفاعی حملے کیے ہیں۔ اضافی امریکی جنگی طیارے اور ری فیولنگ ٹینکرز خطے میں تعینات کیے گئے ہیں، تاہم حکام نے مخصوص تعداد بتانے سے گریز کیا ہے۔
اس کے علاوہ امریکی فضائیہ نے یورپ بھر میں بشمول انگلینڈ، اسپین، جرمنی اور یونان میں، اضافی ری فیولنگ طیارے اور جنگی طیارے اسٹریٹیجک مقامات پر تعینات کیے ہیں۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق امریکی جنگی بحری جہاز بھی اسرائیل کو نشانہ بنانے والے ایرانی بیلسٹک میزائلوں کو مار گرا رہے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عام طور پر مشرق وسطیٰ میں تیس ہزار امریکی فوجی تعینات ہوتے ہیں، لیکن اس وقت یہ تعداد تقریباً چالیس ہزار ہے۔ گزشتہ اکتوبر میں اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور یمن میں ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں کے بحیرہ احمر میں تجارتی اور فوجی جہازوں پر مسلسل حملوں کے جواب میں یہ تعداد 43,000 تک پہنچ گئی تھی۔
بین الاقوامی اداروں کے مطابق امریکی فضائیہ کا’ بی ٹو ‘اسپرٹ اسٹیلتھ بمبار واحد طیارہ ہے جو بنکر بسٹرلے جا سکتا ہے۔ یہ طاقتور بم اپنے وزن کی قوت کو استعمال کرتے ہوئے گہرائی میں دفن اہداف تک پہنچتا ہے اور پھر پھٹ جاتا ہے۔ فی الحال مشرق وسطیٰ میں کوئی بی2 بمبار نہیں ہے۔
یار رہے کہ امریکی حکام نے دفاعی اقدامات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا مقصد اپنے اہلکاروں اور تنصیبات کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔