امریکہ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان موجودہ کشیدگی کو “انتہائی سنجیدہ اور پیچیدہ” قرار دیتے ہوئے دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ ذمہ دارانہ اور پُرامن حل کی جانب بڑھیں تاکہ جنوبی ایشیا میں طویل المدتی اور علاقائی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
یہ بیان امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ٹیمی بروس نے واشنگٹن میں ایک پریس بریفنگ کے دوران دیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ: “یہ ایک سنجیدہ اور ڈائنامک (حرکت پذیر) صورتحال ہے جو تیزی سے بدل رہی ہے۔ ہم اس معاملے پر نہایت قریب سے نظر رکھے ہوئے ہیں اور دونوں ملکوں کی حکومتوں سے مختلف سطحوں پر مسلسل رابطے میں ہیں۔”
ٹیمی بروس نے مزید کہا کہ امریکہ اس معاملے کو “دور سے دیکھنے” کے بجائے فریقین کے ساتھ براہِ راست مشاورت کر رہا ہے۔ ان کے بقول: “ہم اس پیچیدہ صورتحال سے متعلق رپورٹس سے پوری طرح آگاہ ہیں، اور ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت ایک ذمہ دارانہ اور سفارتی طریقہ اپنائیں۔”
انہوں نے واضح کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر خارجہ مارکو رویبو بھی اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور پرامید ہیں کہ دونوں ممالک کسی کشیدگی کے بجائے پائیدار امن کی راہ اپنائیں گے۔
پاک بھارت تعلقات میں یہ کشیدگی اس وقت شدت اختیار کر گئی جب مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں 26 بھارتی سیاحوں کو ہلاک کر دیا گیا۔ بھارت نے اس واقعے کا الزام بالواسطہ طور پر پاکستان پر عائد کیا، جس کے بعد حالات مزید بگڑ گئے۔
بھارت نے کشیدگی کے جواب میں سندھ طاس معاہدے کی معطلی جیسا انتہائی قدم اٹھایا، جس پر پاکستان نے شدید ردعمل دیا ہے اور مختلف محاذوں پر بھارت کے اقدامات کا بھرپور جواب دینے کا عندیہ دیا ہے۔