کیا امریکہ اور ایران میں مذاکرات کامیاب ہوں گے ؟

آج ہفتے کے روز اومان کے دارالحکومت مسقط میں ایرانی اور امریکی نمائندوں کے درمیان اِن ڈائریکٹ مذاکرات ہو رہے ہیں۔ دنیا بھر میں ان مذاکرات کو دلچسپی اور توجہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ اس لئے کہ اگر مذاکرات کا سلسلہ آگے چلتا ہے ، کچھ پیش رفت ہوئی تو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی قدرے کم ہوگی اور جنگ کے خطرات بھی ٹلنا شروع ہوجائیں گے۔
مذاکرات کابنیادی ایجنڈا ایران کا جوہری پروگرام ہے۔
یہ بات طے ہے کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے اور امریکہ، اسرائیل پوزیشن مزید سخت اور جارحانہ ہوتی گئی تو ایران پر کسی حملے کو خارج از امکان نہیں قرار دیا جا سکتا۔ صدر ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ ڈیل نہ ہوسکنے کی صورت میں فوجی کارروائی کی جائے گی، ایسی سخت ترین کارروائی جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔
ان مذاکرات میں امریکی وفد کی قیادت ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے ایلچی اسٹیو وٹ کوف کریں گے اور دوسری طرف ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی بند دروازوں کے پیچھے ہوں گے۔ یاد رہے کہ حماس اور اسرائیل مذاکرات کی طرح یہ گفتگو دونوں وفود آمنے سامنے بیٹھ کر نہیں کر رہے۔ اے ایف پی کے مطابق امریکہ کا کہنا ہے کہ یہ براہ راست مذاکرات ہیں تاہم ایران کا اصرار ہے کہ مذاکرات ثالث کی موجودگی میں ہوں گے ، اس لئے یہ اِن ڈائریکٹ ہی ہیں۔
اہم سوال یہ ہے کہ دونوں ممالک کا مرکزی ایجنڈا کیا ہے
ایران کا کہنا ہے کہ ان مذاکرات کا مقصد ایک منصفانہ، حقیقی اور پائیدار معاہدے تک پہنچنا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اشارہ کیا کہ مذاکرات کا مقصد تہران پر عائد امریکی پابندیوں کو ہٹانا اور جوہری معاہدے پر بات چیت کرنا ہے، جس پر ان کا ملک اصرار کرتا ہے کہ یہ پرامن ہے۔
امریکی وفد کا مرکزی نکتہ ایران کو ہر حال میں جوہری ہتھیار بنانے سے روکنا ہے۔ صدر ٹرمپ نے واضح اعلان کیا ہے کہ ایران کا جوہری ہتھیار بنانا ہمارے لئے قابل قبول نہیں ہے۔ امریکی وفد کے سربراہ وٹ کوف نے وال سٹریٹ جرنل کوانٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے ” واشنگٹن تہران کو اپنا جوہری پروگرام ختم کرنے پر مجبور کر کے اسے جوہری بم بنانے کے قریب پہنچنے سے روکنا چاہتا ہے۔”
ان مذاکرات میں دو چیزیں اہم ہیں۔ ایک یہ کہ ایران ان مذاکرات کو کچھ وقت حاصل کرنے کے لئے استعمال کرنا چاہ رہا ہے یا واقعی سنجیدہ ہے۔ اگر ایران سنجیدہ ہے تو اسے بہرحال پھر سے عالمی جوہری ادارے کے پیمانے کے مطابق یورنئیم افزودگی کو محدود کرنا ہوگا، اپنے جوہری پلانٹس بھی معائنے کے لئے کھولنا ہوں گے اور نیوکلیئر ہتھیار بنانے کے ارادے سے کم از کم عارضی طور پر ہی سہی، دستبردار ہونا پڑے گا۔
ایرانی ماہرین نے دراصل اس کام میں بہت زیادہ تاخیر کر دی۔ وہ پاکستانی ماہرین جیسے جذبے اور مہارت سے کام نہ کر سکے،جنہوں نے بے پناہ مشکلات، عالمی دباو اور کسی حد تک پابندیوں کے باوجود ملک کو نیوکلیئر قوت بنا ڈالا۔ اب ایران یا کسی بھی مسلم ملک کے لئے ایسا کرنا آسان نہیں رہا۔
مذاکرات کی کامیابی کے لئے دوسرا اور شائد زیادہ اہم نکتہ امریکہ کی سنجیدگی ہے۔ کیا امریکہ واقعی مذاکرات کامیاب کرنا اور ایران کو انگیج کرنا چاہتا ہے یا وہ یہ مذاکرات صرف امن کا مصنوعی تاثر دینے کے لئے کر رہا ہے اور درحقیقت ایران پر فوجی مہم جوئی کی نیت کر چکا ہے۔ یہ بہت اہم ہے کیونکہ اسی پر مذاکرات کی کامیابی کا دارومدار ہے۔
ویسے امکانات یہ ہیں کہ سردست یہ معاملہ آگے بڑھ جائے۔ ایران اگر سخت موقف اختیار کرتا تو صدر ٹرمپ کی دھمکیوں کے بعد وہ کسی بھی قسم کے مذاکرات سے دور رہتا۔ ایران کا مذاکرات پر آمادہ ہوجانا یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ جنگ اور ٹکرائو سے گریز چاہ رہا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ جب ایران انگیج ہو رہا ہے تو پھر امن مذاکرات کے ذریعے ہی حل نکالنا چاہیے۔ اگر ایران پر عسکری مہم جوئی کی گئی تو پھر جواب میں بھی شدید قسم کا ردعمل آئے گا اور بات صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہے گی، پھر انتقام کا لاوا کسی بھی سمت میں بہہ نکلے گا۔ امریکہ اور اس کے ماہرین کو یہ سوچنا چاہیے کہ دنیا اس وقت ایک اور بڑی جنگ یا مہم جوئی کی متحمل نہیں ہوسکتی۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں