اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے گزشتہ روز اتوار کی شام غزہ کے محصور علاقے میں کچھ غذائی اشیاء داخل کرنے کی اجازت دینے کا اعلان کیا۔ یہ اعلان فوج کی جانب سے غزہ میں ایک نئی اور وسیع زمینی کارروائی کے آغاز کے چند گھنٹوں بعد سامنے آیا۔ اس فیصلے نے نیتن یاہو کے موقف کی تبدیلی پر سوالات کھڑے کر دیے۔ بالخصوص جب کہ یہ اعلان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب تمام اشارے اس بات کی طرف تھے کہ زیادہ تر وزراء اس اقدام کے خلاف ہیں۔ تاہم بعض اسرائیلی وزراء نے واضح کیا کہ نیتن یاہو کی رضامندی کی وجہ امریکی دباؤ تھا، یہ بات اسرائیلی اخبار “یدیعوت احرونوت” نے بتائی۔
اسرائیلی اخبار کے مطابق، حکومتِ اسرائیل کی جانب سے امداد کی فراہمی کے لیے جو منصوبہ تیار کیا گیا ہے، وہ عارضی طور پر اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کہ 24 مئی کو ایک امریکی نجی سیکیورٹی کمپنی امداد کی تقسیم کی نگرانی کا کام سنبھال نہیں لیتی، جو کہ مخصوص انسانی علاقوں میں یہ نگرانی کرے گی۔اس وقت تک امداد ان علاقوں تک پہنچے گی جہاں شدید لڑائی جاری نہیں ہے۔
یاد رہے کہ ٹرمپ نے گزشتہ دنوں میں زور دیا تھا کہ غزہ کے عوام تک امداد پہنچانا ضروری ہے�