AIٹول نے پھیپھڑوں کے کینسر کے علاج سے متعلق موجودہ بائیومارکرز کو پیچھے چھوڑ دیا

مصنوعی ذہانت پر مبنی ایک نئے ٹول نے پھیپھڑوں کے کینسر کے مریضوں میں امیونوتھراپی کے ممکنہ نتائج اور بقا کی پیش گوئی میں روایتی طبی پیمانوں سے بہتر کارکردگی دکھائی ہے۔ بین الاقوامی تحقیق کے نتائج معروف طبی جریدے ’نیچر میڈیسن‘ میں شائع ہوئے ہیں۔

I3LUNG نامی اس منصوبے میں امریکا، اٹلی، جرمنی، یونان، اسرائیل اور اسپین کے چھ مراکز سے ایڈوانسڈ نان اسمال سیل لنگ کینسر کے 2,396 مریضوں کا ڈیٹا شامل کیا گیا۔ محققین نے مریضوں کی طبی معلومات، خون کے ٹیسٹ، سی ٹی اسکین، ڈیجیٹل پیتھالوجی اور جینیاتی معلومات استعمال کرکے مختلف AI ماڈلز تیار کیے۔

تحقیق کے مطابق صرف معمول کی طبی اور خون کی معلومات استعمال کرنے والے AI ماڈلز نے بھی PD-L1 سمیت کئی موجودہ بائیومارکرز سے بہتر نتائج دیے اور بعض ٹیسٹوں میں ان کا AUC اسکور 0.77 تک پہنچا۔ زیادہ ڈیٹا، جیسے امیجنگ اور پیتھالوجی شامل کرنے والے ماڈلز نے بعض تجزیوں میں مزید بہتر کارکردگی دکھائی، تاہم محققین کا کہنا ہے کہ اس اضافی فائدے کی مزید تصدیق ضروری ہے۔

مطالعے میں 20 ڈاکٹروں کو 100 حقیقی مریضوں کے کیسز کا جائزہ لینے کو بھی کہا گیا۔ AI کی مدد ملنے کے بعد مریضوں میں امیونوتھراپی کے ممکنہ فائدے
کی پیش گوئی بہتر ہوئی، جبکہ پھیپھڑوں کے کینسر کے ماہر نہ ہونے والے ڈاکٹروں میں بہتری زیادہ نمایاں رہی۔ محققین کے مطابق اس طرح کے ٹولز ایسے ہسپتالوں میں خاص طور پر مددگار ثابت ہو سکتے ہیں جہاں ماہر آنکولوجسٹ محدود ہوں۔

امیونوتھراپی نے پھیپھڑوں کے کینسر کے علاج میں نمایاں تبدیلی پیدا کی ہے، لیکن طویل مدتی فائدہ صرف تقریباً 20 سے 30 فیصد مریضوں میں دیکھا جاتا ہے۔ فی الحال ڈاکٹر اکثر PD-L1 جیسے بائیومارکرز کی مدد سے علاج کا انتخاب کرتے ہیں، تاہم یہ ہر مریض میں درست پیش گوئی نہیں کر پاتے۔

محققین کا کہنا ہے کہ AI پر مبنی فیصلہ سازی کے یہ ٹولز مستقبل میں ڈاکٹروں کو یہ طے کرنے میں مدد دے سکتے ہیں کہ کون سا مریض امیونوتھراپی سے زیادہ فائدہ اٹھا سکتا ہے، جس سے غیر ضروری علاج، مضر اثرات اور اخراجات کم کیے جا سکتے ہیں۔ تاہم یہ نظام ابھی تحقیق اور توثیق کے مرحلے میں ہے اور I3LUNG منصوبے کے اگلے مرحلے میں 2,000 سے زیادہ مزید مریضوں پر اس کی جانچ جاری ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں