اے آئی کی مانگ سے میموری چِپس کی کمی، 2026 میں گیجٹس مہنگے ہونے کا امکان

دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت (AI) کی تیزی سے بڑھتی ہوئی مانگ نے میموری چپس کی عالمی قلت پیدا کر دی ہے، جس کے باعث ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ سال اسمارٹ فونز، لیپ ٹاپس اور دیگر الیکٹرانک مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوسکتا ہے۔ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اے آئی ٹولز، جیسے چیٹ جی پی ٹی، کو چلانے کے لیے بڑے بڑے ڈیٹا سینٹرز بنا رہی ہیں، جنہیں بھاری مقدار میں میموری چپس کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ چپس جو عام طور پر موبائل اور کمپیوٹرز میں استعمال ہوتی تھیں، اب زیادہ تر اے آئی سسٹمز میں جا رہی ہیں۔

چینی کمپنی شیاؤمی کے صدر لو وی بِنگ نے خبردار کیا ہے کہ اگلے سال میموری چپس کی فراہمی پر دباؤ اس سال سے کہیں زیادہ ہوگا، جس کے باعث اسمارٹ فونز اور دیگر الیکٹرانک سامان کی قیمتوں میں واضح اضافہ دیکھنے میں آئے گا۔ ٹیک ماہرین کا کہنا ہے کہ میموری کی کمی کا اثر نہ صرف موبائل فون کمپنیوں بلکہ لیپ ٹاپ، کمپیوٹر اور سرور بنانے والی کمپنیوں پر بھی پڑے گا، اور آخرکار اس کا بوجھ صارفین کو برداشت کرنا پڑے گا۔

ڈی آر ایم (DRAM) اور نینڈ (NAND) وہ دو اہم میموری چپس ہیں جو ہر عام الیکٹرانک ڈیوائس میں استعمال ہوتی ہیں، لیکن اب وہی چپس اے آئی سسٹمز کے لیے بھی ناگزیر بن چکی ہیں۔ ان کی تیزی سے بڑھتی ہوئی مانگ نے سیمی کنڈکٹر کمپنیوں کی آمدنی میں اضافہ تو کر دیا ہے، مگر مارکیٹ میں فراہمی کم ہونے سے قیمتیں مسلسل اوپر جا رہی ہیں۔ سام سنگ، ایس کے ہائینکس، میکرون اور سن ڈسک جیسے بڑے ادارے اس وقت ریکارڈ منافع کما رہے ہیں۔

سام سنگ نے اسی طلب کو پورا کرنے کے لیے جنوبی کوریا میں ایک نئے سیمی کنڈکٹر پلانٹ بنانے کا اعلان کیا ہے۔ ایس کے ہائینکس نے بھی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث اپنی سہ ماہی آمدنی میں ریکارڈ اضافہ ظاہر کیا ہے۔ مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق میموری چپس کی قیمتوں میں بڑھوتری کا سلسلہ جاری ہے اور اسی وجہ سے 2026 میں اسمارٹ فون اور لیپ ٹاپ کی عالمی پیداوار میں کمی بھی متوقع ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ گاڑیوں کی صنعت اس کمی سے کم متاثر ہوگی کیونکہ ان میں میموری چپس کا استعمال نسبتاً کم ہوتا ہے۔ تاہم مجموعی طور پر عالمی مارکیٹ غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔ چین کی بڑی چِپ ساز کمپنی ایس ایم آئی سی کا کہنا ہے کہ خریدار مستقبل میں چپس کی دستیابی کے بارے میں پریشان ہیں، اسی لیے آرڈرز دینے میں ہچکچا رہے ہیں

Author

اپنا تبصرہ لکھیں