امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یورپی یونین سے درآمد کی جانے والی تمام اشیا پر 50 فیصد ٹیرف عائد کرنے کی تجویز پیش کی ہے، جو امریکہ اور یورپی یونین کے درمیان جاری تجارتی کشیدگی میں ایک نئے مرحلے کی نشاندہی کرتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے جمعے کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ ،ہمارے درمیان بات چیت جاری ہے، لیکن اگر کوئی سمجھوتہ نہ ہوا تو یکم جون سے نئے ٹیرف نافذ العمل ہوں گے۔ ان کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ، امریکہ اور یورپی یونین کے درمیان جاری مذاکرات ابھی تک کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔
واضح رہے کہ، اس سے قبل صدر ٹرمپ نے یورپی یونین کی بیشتر مصنوعات پر ابتدائی طور پر 20 فیصد ٹیرف لگانے کی تجویز دی تھی، تاہم مذاکرات کا موقع دینے کے لیے انھوں نے اس میں نرمی کرتے ہوئے آٹھ جولائی تک ٹیرف کو عارضی طور پر 10 فیصد تک محدود کر دیا تھا۔
صدر ٹرمپ نے ایپل کمپنی کے تیار کردہ آئی فونز کے حوالے سے بھی سخت مؤقف اختیار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ، وہ چاہتے ہیں کہ، امریکہ میں فروخت ہونے والے آئی فونز ملک کے اندر تیار کیے جائیں، نہ کہ بھارت یا کسی دوسرے ملک میں۔ ان کے مطابق، اگر ایپل نے اپنی تیاری امریکہ میں منتقل نہ کی تو کمپنی کو امریکہ میں فروخت ہونے والے ہر آئی فون پر کم از کم 25 فیصد ٹیرف دینا ہوگا۔