پاکستان کیلئے ایک اور اعزاز، دو کوہ پیماؤں نے ماؤنٹ ایورسٹ اور کنچن جنگا کو سر کر لیا

پاکستان سے تعلق رکھنے والے دو کوہ پیماؤں نے دنیا کی سب سے بلند چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ اور نیپال میں واقع 8 ہزار 586 میٹر بلند دنیا کی تیسری بلند ترین چوٹی کنچن جنگا کو کامیابی سے سر کر لیا۔

الپائن کلب آف پاکستان کے سیکریٹری قرار حیدری نے بتایا کہ، گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے کوہ پیما، واجد اللہ نگری نے پیر کے روز ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کر لیا۔ وہ معروف کوہ پیما، انگ تاشی شیرپا کے ہمراہ زمین کے سب سے بلند مقام تک پہنچے۔

قرار حیدری نے واجد اللہ نگری کو اس شاندار کامیابی پر مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ، یہ کامیابی انسان کی ہمت، استقامت اور غیرمتزلزل جذبے کی ایک روشن مثال ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ، یہ لمحہ نہ صرف پاکستان کے لیے باعث افتخار ہے، بلکہ دنیا بھر کے کوہ پیماؤں کے لیے بھی ایک مؤثر تحریک کا درجہ رکھتا ہے۔

واجد اللہ نگری کا تعلق گلگت بلتستان کے ضلع نگر سے ہے اور وہ اس بار پائنیر ایڈونچر مہم کا حصہ تھے۔ اس سے قبل وہ پاکستان کی دیگر کئی بلند چوٹیوں جیسے کہ کے ٹو، براڈ پیک، نانگا پربت، گاشر برم-I اور گاشر برم-II کو بھی کامیابی سے سر کر چکے ہیں۔

دوسری جانب، امریکا میں مقیم پاکستانی نژاد کوہ پیما، ڈاکٹر شہلا شیخ نے اتوار کے روز دنیا کی تیسری بلند ترین چوٹی کنچن جنگا کو کامیابی سے سر کر لیا۔

یہ چوٹی اپنی تکنیکی پیچیدگی اور سخت موسم کی وجہ سے 8 ہزار میٹر سے زائد بلندی رکھنے والی چوٹیوں میں سب سے زیادہ خطرناک تصور کی جاتی ہے۔

میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر شہلا شیخ نے اس بات کی تصدیق کی کہ، وہ بحفاظت نیچے اتر آئی ہیں اور انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ، وہ کنچن جنگا کو سر کرنے والی پہلی پاکستانی خاتون ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ، وہ ایڈونچر ٹورازم کے لیے باقاعدگی سے پاکستان آتی رہتی ہیں۔

ڈاکٹر شہلا شیخ نے بتایا کہ، انہوں نے پہلی مرتبہ 2022 میں کے ٹو بیس کیمپ کا ٹریک مکمل کیا، جس کے بعد انہوں نے اسپانٹک سمیت دیگر بلند چوٹیوں کو بھی سر کیا۔

الپائن کلب آف پاکستان کے سیکریٹری قرار حیدری نے ایک بیان میں کہا کہ ،انہیں یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ ،امریکا میں مقیم پاکستانی کوہ پیما، ڈاکٹر شہلا شیخ نے اتوار کے روز سطح سمندر سے 8 ہزار 586 میٹر (28 ہزار 169 فٹ) بلند دنیا کی تیسری بلند ترین چوٹی کنچن جنگا کو کامیابی سے سر کر لیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ، ڈاکٹر شہلا شیخ کا یہ کارنامہ بین الاقوامی سطح پر پاکستانی کوہ پیماؤں، خاص طور پر خواتین کی بڑھتی ہوئی موجودگی اور کامیابیوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ قرار حیدری کے مطابق، بطور طبیب اور مہم جو، ڈاکٹر شہلا شیخ اپنی سائنسی و تحقیقی وابستگیوں کی بدولت دوسروں کے لیے ایک مسلسل تحریک بنی ہوئی ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں