پاکستان: بلوچستان کے ضلع خضدار میں سکول بس پر خود کش حملہ، 6 افراد جاں بحق 42 زخمی ہوئے

بلوچستان کے ضلع خضدار میں اسکول کے بچوں کو لے جانے والی بس پر خودکش حملے کے نتیجے میں چار بچوں سمیت چھ افراد شہید جبکہ 42 زخمی ہو گئے۔

دھماکہ خضدار کے زیرو پوائنٹ کے قریب اس وقت پیش آیا جب اسکول بس بچوں کو لے کر جا رہی تھی۔ دھماکے کے نتیجے میں بس مکمل طور پر تباہ ہو گئی، جبکہ اس میں سوار چار بچوں سمیت چھ افراد جان کی بازی ہار گئے اور42 زخمی ہوئے۔ ڈپٹی کمشنر خضدار کے مطابق، یہ ایک خودکش حملہ تھا۔

ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ، ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ، اسکول بس میں دھماکہ خودکش بمبار کی جانب سے خود کو دھماکے سے اڑانے کے نتیجے میں ہوا۔ ان کے مطابق، شہید ہونے والے بچوں کی تعداد چار ہے۔

تمام زخمی بچوں کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ، زخمیوں میں بعض کی حالت تشویش ناک ہے۔ شہید ہونے والی طالبات میں چھٹی جماعت کی ثانیہ سومرو، ساتویں جماعت کی حفظہ کوثر اور دسویں جماعت کی عائشہ سلیم شامل ہیں۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ، دھماکے سے بس بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ جائے وقوعہ پر پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی نفری پہنچ چکی ہے اور علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ مزید تفصیلات جلد میڈیا اور عوام کے ساتھ شیئر کی جائیں گی۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ، خضدار میں بچوں کی اسکول بس کو نشانہ بنانے والے حملے میں تین بچوں سمیت پانچ افراد شہید جبکہ کئی زخمی ہوئے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ، یہ حملہ بھارت کے دہشت گرد نیٹ ورک نے اپنی پراکسی تنظیموں کے ذریعے کروایا، جس میں اسکول جانے والے معصوم بچوں کو نشانہ بنایا گیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق، مسلح افواج پوری قوم کی حمایت کے ساتھ بھارت کی سرپرستی میں کی جانے والی دہشت گردی کا ہر سطح پر سدباب کریں گی۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ، اس حملے کے منصوبہ سازوں، سہولت کاروں اور حملہ آوروں کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ معصوم بچوں اور شہریوں کو نشانہ بنانا بھارتی حکومت کی اخلاقی پستی اور انسانیت دشمن رویوں کی عکاسی کرتا ہے۔

مزید کہا گیا کہ، بھارتی ریاستی دہشت گردی کا یہ بھیانک چہرہ عالمی برادری کے سامنے بے نقاب کیا جائے گا۔ بھارت نے آپریشن ’بنیان مرصوص‘ میں ناکامی کے بعد بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشت اور بدامنی پھیلانے کے لیے اپنے ایجنٹوں کو متحرک کر دیا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ، بھارت میدان جنگ میں شکست کھانے کے بعد اب بزدلانہ کارروائیوں پر اتر آیا ہے۔ ان کے مطابق، بھارت نے اس حملے کی منصوبہ بندی خود کی اور بلوچستان میں موجود اپنی پراکسیز کے ذریعے اسے عملی جامہ پہنایا۔ ذرائع کے مطابق، حملے میں شہید ہونے والی بچیوں میں چھٹی جماعت کی ثانیہ سومرو، ساتویں جماعت کی حفظہ کوثر اور دسویں جماعت کی عائشہ سلیم شامل ہیں۔ زخمی بچوں کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ، پاکستان میں ہونے والے تمام دہشت گرد حملوں کے پیچھے بھارت کا خونی چہرہ چھپا ہوا ہے۔
صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے خضدار میں اسکول بس پر بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردوں کے حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ صدر نے اپنے بیان میں کہا کہ، معصوم بچوں پر اس نوعیت کا سفاکانہ حملہ انتہائی افسوسناک اور ناقابل برداشت ہے، اور ذمہ داران کو قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ، بھارتی سرپرستی میں کام کرنے والے دہشت گردوں کی جانب سے اسکول بس پر معصوم بچوں کو نشانہ بنانا ان کی تعلیم دشمنی کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ، دہشت گردوں نے اپنی درندگی کی تمام حدیں پار کر دی ہیں اور ان کا انجام یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے شہید بچوں اور اساتذہ کے لواحقین سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے حملے کے ذمہ داروں کی فوری شناخت اور سزا دینے کی ہدایت کی۔ ساتھ ہی انہوں نے زخمی بچوں کو ترجیحی بنیادوں پر علاج فراہم کرنے کا حکم بھی دیا۔

وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ، بھارت کے حمایت یافتہ دہشت گرد بلوچستان کے امن کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں، لیکن ان کے ناپاک عزائم خاک میں ملا دیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ، ملک کے مستقبل، یعنی ان معصوم بچوں کو نشانہ بنانے والوں کو کسی صورت بخشا نہیں جائے گا۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ، یہ حملہ ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کی دشمن کی ایک مذموم کوشش ہے۔ انہوں نے جاں بحق بچوں کے اہل خانہ سے افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ، قوم کے اتحاد سے دشمن کی ہر سازش ناکام بنائی جائے گی۔ ساتھ ہی انہوں نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا بھی کی۔

وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے اس حملے کو بھارتی قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول کی منصوبہ بندی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ، ہمیں پہلے سے بھارت کی دہشت گردی کی سرگرمیوں سے متعلق انٹیلی جنس رپورٹس موجود تھیں، مگر یہ توقع نہیں تھی کہ، دشمن اتنا بزدل ہو گا کہ،معصوم بچوں کو نشانہ بنائے گا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ، بچوں کے مقدس خون کی قسم کھا کر وہ دہشت گردوں کو چن چن کر ختم کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ، یہ کسی حقوق کی جنگ کا حصہ نہیں، بلکہ دہشت گردوں کو بھارت کی مالی معاونت کے ذریعے حملوں پر اکسایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ، افغانستان کی سرزمین بارہا پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے، اور اگرچہ ہم نقل مکانی سے گریز چاہتے ہیں، مگر ہمیں مجبور کیا جا رہا ہے۔

خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے خضدار میں معصوم بچوں پر حملے کو انتہائی شرمناک اور بزدلانہ اقدام قرار دیا اور کہا کہ، سوگوار خاندانوں کے دکھ میں وہ برابر کے شریک ہیں۔ انہوں نے جاں بحق افراد کے لیے مغفرت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔

اپنا تبصرہ لکھیں