پاکستان اور بھارت کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز (ڈی جی ایم اوز) کے درمیان ہاٹ لائن پر اہم رابطہ ہوا، جس میں دونوں ممالک نے موجودہ کشیدگی کے پیش نظر جنگ بندی برقرار رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، ہاٹ لائن پر یہ گفتگو دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی پہلی باضابطہ کوشش تھی۔ ڈی جی ایم اوز نے لائن آف کنٹرول اور دیگر محاذوں پر مکمل سیز فائر کو یقینی بنانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
یہ پیش رفت اُس کے بعد سامنے آئی ہے جب پاکستان نے 10 مئی کو بھارتی حملوں کے جواب میں ’آپریشن بنیان مرصوص‘ کا آغاز کیا تھا، جس میں پاکستانی فوج کے مطابق، ادھم پور، پٹھان کوٹ، آدم پور ایئربیسز، براہموس میزائل اسٹوریج سائٹ، ایس-400 دفاعی نظام سمیت کئی اہم بھارتی اہداف کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ پاکستانی سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، یہ کارروائیاں ان ایئربیسز پر کی گئیں جہاں سے پاکستان کی آبادی اور عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
اسی روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایکس (سابق ٹوئٹر) پر جاری بیان میں انکشاف کیا تھا کہ، پاکستان اور بھارت مکمل اور فوری سیز فائر کے لیے تیار ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ، دونوں ممالک کے درمیان سفارتی کوششوں کے نتیجے میں بات چیت کا عمل بحال ہوا ہے۔
بھارتی سیکریٹری خارجہ، وکرم مصری نے ایک باضابطہ بیان میں بتایا کہ، پاکستان کے ڈی جی ایم او نے سہ پہر 3 بج کر 35 منٹ پر بھارتی ہم منصب سے رابطہ کیا، جس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ، دونوں ممالک تمام زمینی، فضائی اور بحری کارروائیاں فوری طور پر بند کریں گے۔
ان کے مطابق، جنگ بندی کا اطلاق 10 مئی کی شام 5 بجے سے ہو گیا ہے اور دونوں فریقین کو متعلقہ ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
مزید برآں، طے پایا ہے کہ، دونوں ممالک کے ڈی جی ایم اوز 12 مئی کو دوبارہ رابطہ کریں گے، تاکہ جنگ بندی کے عمل پر پیش رفت اور عملدرآمد کا جائزہ لیا جا سکے۔