پاکستان کےآرمی چیف، جنرل عاصم منیر نے بھارت کی ممکنہ جارحیت کے تناظر میں دوٹوک پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ، بھارت کی کسی بھی کارروائی کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ٹلہ فیلڈ فائرنگ رینجز کے دورے کے موقع پر کیا، جہاں انہوں نے منگلا اسٹرائیک کور کی جنگی مشقوں کا معائنہ کیا اور ‘یمر اسٹرائیک’ مشق کا جائزہ لیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق، آرمی چیف نے واضح کیا کہ، پاکستان خطے میں پائیدار امن کا خواہاں ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ، بھارت کے کسی بھی قسم کے ’مس ایڈونچر‘ پر فوری اور بھرپور ردِعمل دیا جائے گا۔

یہ بیان ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب بھارت نے 22 اپریل کو پہلگام میں مقامی سیاحوں پر حملے کا الزام پاکستان پر عائد کرتے ہوئے یکطرفہ اقدامات کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ بھارتی حکومت نہ صرف سندھ طاس معاہدہ معطل کر چکی ہے، بلکہ اس نے پاکستانی سفارتی عملے کو بھی 30 اپریل تک ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔ مزید برآں، پاکستانی شہریوں کے ویزے منسوخ کر دیے گئے ہیں اور کئی دیگر سخت گیر فیصلے کیے گئے ہیں۔

ان بھارتی اقدامات کے جواب میں پاکستان نے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد بھرپور ردعمل دینے کا فیصلہ کیا۔ کمیٹی نے شملہ سمیت تمام دوطرفہ معاہدے معطل کرنے کا عندیہ دیا ہے اور بھارت کے ساتھ فضائی، زمینی اور تجارتی رابطے ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پاکستان نے بھارتی ہائی کمیشن میں سفارتی عملے کی تعداد 30 تک محدود کرتے ہوئے کئی مشیروں کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر ملک چھوڑنے کی ہدایت دی ہے، جبکہ بھارتی شہریوں کے ویزے بھی منسوخ کر دیے گئے ہیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات ،عطا اللہ تارڑ نے بھی 30 اپریل کو خبردار کیا تھا کہ، مصدقہ انٹیلی جنس اطلاعات کے مطابق، بھارت اگلے 24 سے 36 گھنٹوں میں کوئی جارحیت کر سکتا ہے۔ ان کے بقول پہلگام واقعے کو جواز بنا کر بھارتی حکومت ایک خطرناک اقدام کی تیاری کر رہی ہے۔