چین کا چاند کے نمونوں کو پاکستان سمیت 6 ممالک کو فراہم کرنے کا اعلان

چین نے حال ہی میں چاند سے حاصل کیے گئے قیمتی نمونوں کو بین الاقوامی سائنسی تعاون کے فروغ کے لیے مختلف ممالک کے تحقیقی اداروں کو فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق، یہ نمونے چین کے 2020 میں ہونے والے چانگ ای-5 لونر مشن کے دوران جمع کیے گئے تھے، جس کے ذریعے 1,731 گرام چاند کی مٹی اور چٹانیں زمین پر لائی گئیں۔

چین کی نیشنل اسپیس ایڈمنسٹریشن (سی این ایس اے) کے مطابق یہ قیمتی نمونے پاکستان، امریکا، برطانیہ، فرانس، جرمنی اور جاپان کے 7 تحقیقی اداروں کو فراہم کیے گئے ہیں۔ پاکستان کی نمائندگی پاکستان اسپیس اینڈ اپر ایٹماسفیئر ریسرچ کمیشن (سپارکو) کر رہا ہے۔ امریکا سے براؤن یونیورسٹی اور سنی اسٹونی بروک یونیورسٹی، برطانیہ سے دی اوپن یونیورسٹی، فرانس سے انسٹی ٹیوٹ ڈی فزیک ڈو گلوب ڈی پیرس، جرمنی سے یونیورسٹی آف کولون اور جاپان سے یونیورسٹی آف اوساکا ان نمونوں پر تحقیق کے لیے منتخب کی گئی ہیں۔

یہ اعلان اپریل 2025 میں شنگھائی میں منعقد ہونے والے چین کے 10ویں اسپیس ڈے کے موقع پر کیا گیا۔ واضح رہے کہ چانگ ای-5 مشن سے حاصل کیے گئے چاند کے نمونے تقریباً 1.96 ارب سال پرانے ہیں، جو چاند کی ارضیاتی تاریخ اور ارتقائی عمل کو بہتر طور پر سمجھنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں