پاکستان کے وزیر دفاع، خواجہ آصف نے عالمی برادری کو خبردار کیا ہے کہ، اگر بھارت نے پاکستان پر حملہ کرنے کی کوشش کی تو یہ صورتحال کھلی جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے، اور دنیا کو اس حقیقت کا ادراک ہونا چاہیے کہ، دونوں ممالک جوہری طاقت کے حامل ہیں۔ انہوں نے برطانوی ٹی وی چینل اسکائی نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں واضح الفاظ میں کہا کہ، ایسی کسی بھی جنگ کے سنگین عالمی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
پروگرام ‘دی ورلڈ ود یالدا حکیم’ میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے مقبوضہ کشمیر کے علاقے، پہلگام میں سیاحوں پر حملے میں پاکستان کے ملوث ہونے کے بھارتی الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا اور اسے بھارت کی جانب سے ایک ‘فالس فلیگ آپریشن’ قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ، پاکستان کی فوج ہر قسم کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور اگر بھارت نے کوئی جارحانہ قدم اٹھایا تو پاکستان اس کا جواب بھرپور انداز میں دے گا۔ ان کے بقول، بھارت جس انداز میں پہل کرے گا، پاکستان اسی انداز میں جواب دے گا، اور اگر ایسا حملہ ہوا تو وہ یقینا ایک کھلی جنگ ہوگی۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ، کیا دنیا کو اس صورتحال پر تشویش ہونی چاہیے، تو انہوں نے کہا کہ، بالکل، دو جوہری ریاستوں کے درمیان کشیدگی ہمیشہ خطرناک ہوتی ہے اور اگر حالات قابو سے باہر ہو گئے تو اس کے نتائج انتہائی المناک ہو سکتے ہیں۔
اسکائی نیوز کے مطابق، بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے پہلگام حملے کے ذمہ داروں کو ‘زمین کے آخری کونے تک’ ڈھونڈ کر کارروائی کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس پر خواجہ آصف نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ، بھارت خود ایسے حالات پیدا کرتا ہے جن سے خطے میں کشیدگی بڑھتی ہے، اور انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ، حملے کی ذمہ داری بھارت پر ہی عائد ہوتی ہے۔
تاہم، وزیر دفاع نے اس بات پر بھی زور دیا کہ، مسائل کا حل صرف مذاکرات سے ممکن ہے اور پاکستان اس تناظر میں بات چیت کے لیے ہمیشہ تیار ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ، آیا امریکی صدر، ڈونلڈ ٹرمپ کو موجودہ بحران کو حل کرنے میں کردار ادا کرنا چاہیے تو انہوں نے کہا کہ، بطور ایک عالمی طاقت کے سربراہ، ان کی مداخلت مثبت ثابت ہو سکتی ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ، اگر عالمی طاقتیں، خصوصا امریکہ، اس معاملے میں کوئی تعمیری کردار ادا کریں تو اس سے خطے میں کشیدگی میں کمی آ سکتی ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ، اگر بھارت نے کسی بھی قسم کی جارحیت کی تو پاکستان کے پاس اس کا جواب دینے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہوگا۔