وزیراعظمپاکستان، شہباز شریف اور چیئرمین پیپلز پارٹی، بلاول بھٹو زرداری کے درمیان اہم ملاقات کے بعد وفاقی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ، جب تک مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) میں باہمی رضامندی سے فیصلہ نہ ہو، کوئی نئی نہر نہیں بنائی جائے گی۔
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب سندھ، خاص طور پر پیپلز پارٹی اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے جنوبی پنجاب میں 6 نئی نہریں بنانے کے منصوبے پر شدید اعتراضات اور احتجاج جاری تھے۔ یہ منصوبہ گرین پاکستان انیشی ایٹو (GPI) کا حصہ ہے، جس کے تحت چولستان سمیت جنوبی پنجاب میں 1.2 ملین ایکڑ بنجر زمین کو قابل کاشت بنانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہاکہ،فیڈریشن کا تقاضا ہے کہ، ایسے حساس معاملات میں صوبوں کے درمیان خلوص نیت اور افہام و تفہیم سے فیصلے کیے جائیں۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ، کالا باغ ڈیم ایک معاشی طور پر مفید منصوبہ ہونے کے باوجود اگر وفاقی وحدت کے خلاف جاتا ہے تو اسے ترک کرنا چاہیے۔
وزیراعظم نے کہا کہ،ہم نے باہمی اتفاق رائے سے فیصلہ کیا ہے کہ، مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس 2 مئی کو بلایا جا رہا ہے، اور اس میں فیصلہ ہونے تک کوئی نئی نہر نہیں بنے گی۔
اس موقع پرچیئرمین پیپلز پارٹی، بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم کی جانب سے کیے گئے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہاکہ، جو لوگ پانی کے معاملے پر احتجاج کر رہے تھے، ان کے تحفظات کو بڑی حد تک ایڈریس کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ، 3 صوبوں نے ماضی میں کالا باغ ڈیم پر اعتراضات اٹھائے تھے اور آج بھی ہم اسی اصول پر قائم ہیں کہ، اتفاق رائے کے بغیر کوئی بھی آبی منصوبہ آگے نہیں بڑھایا جائے گا۔
15فروری کوپاکستان کے آرمی چیف، جنرل عاصم منیر اور وزیراعلیٰ پنجاب، مریم نواز نے چولستان منصوبے کا افتتاح کیا تھا۔پیپلز پارٹی، کسان تنظیمیں اور سندھ کی قوم پرست جماعتیں اس منصوبے کی مخالفت کر رہی تھیں، ان کا مؤقف ہے کہ، اس سے سندھ کو پانی کی تقسیم میں نقصان ہوگا۔