پی ایس ایل 10: سنسنی خیز مقابلے میں کراچی کنگز نے پشاور زلمی کو 2 وکٹوں سے ہرا دیا

پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے دسویں ایڈیشن کے 11ویں میچ میں کراچی کنگز نے ایک دلچسپ اور سنسنی خیز مقابلے کے بعد پشاور زلمی کو 2 وکٹوں سے شکست دے دی۔ نیشنل بینک اسٹیڈیم کراچی میں کھیلے گئے اس میچ میں دونوں ٹیموں کی جانب سے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا گیا۔

پشاور زلمی کی اننگز
کراچی کنگز کے کپتان ڈیوڈ وارنر نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا، جس کے بعد پشاور زلمی نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 20 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 147 رنز اسکور کیے۔
زلمی کی بیٹنگ لائن ابتداء سے ہی مشکلات کا شکار رہی۔ صائم ایوب صرف 4 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے جبکہ جارح مزاج ٹام کوہلر کی اننگز 7 رنز تک محدود رہی۔ کپتان بابراعظم نے کچھ مزاحمت کی مگر 46 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئے۔ محمد حارث نے 28، حسین طلعت نے 18 اور الزاری جوزف نے آخر میں 24 رنز کی جارحانہ اننگز کھیلی۔
کراچی کی جانب سے عباس آفریدی اور خوشدل شاہ نے 3،3 جبکہ میر حمزہ اور عامر جمال نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔

کراچی کنگز کی اننگز
148 رنز کے ہدف کے تعاقب میں کراچی کنگز کی شروعات بھی مایوس کن رہی۔ اوپنر ٹم سیفرٹ پہلی ہی گیند پر آؤٹ ہوگئے، جبکہ جیمز وِنس، سعد بیگ، عرفان نیازی اور محمد نبی بھی جلدی پویلین لوٹ گئے۔
تاہم، ایک اینڈ سے کپتان ڈیوڈ وارنر نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے پی ایس ایل میں اپنی پہلی نصف سنچری اسکور کی۔ وارنر نے 60 رنز کی اننگز کھیلی جبکہ خوشدل شاہ نے 23 رنز کے ساتھ ناقابل شکست رہ کر ٹیم کو فتح سے ہمکنار کیا۔
کراچی نے یہ ہدف 19.3 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر لیا۔ زلمی کی جانب سے لک ووڈ نے 3، علی رضا نے 2 جبکہ الزاری جوزف اور عارف یعقوب نے 1،1 وکٹ حاصل کی۔

پوائنٹس ٹیبل کی صورتحال
یہ کراچی کنگز کی چوتھے میچ میں دوسری فتح ہے جبکہ دو میں انہیں شکست ہوئی ہے۔ دوسری جانب، پشاور زلمی نے اب تک 3 میچز کھیلے ہیں، جن میں سے دو میں انہیں شکست ہوئی اور ایک میں کامیابی ملی۔
کراچی نے اب تک ملتان سلطانز اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو شکست دی ہے جبکہ لاہور قلندرز اور اسلام آباد یونائیٹڈ سے ہار چکے ہیں۔ پشاور کو ابتدائی دو میچز میں کوئٹہ اور اسلام آباد کے ہاتھوں بھاری مارجن سے شکست ہوئی تھی، جبکہ ملتان کے خلاف انہیں پہلی فتح ملی تھی۔
یہ میچ جہاں کراچی کے لیے اہم کامیابی تھا، وہیں پشاور زلمی کے لیے ایک اور موقع تھا جہاں فتح ہاتھ آتے آتے چھن گئی۔

اپنا تبصرہ لکھیں