پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے سابق ریڈ بال ٹیم کے کوچ، جیسن گلیسپی کی جانب سے بقایا جات کی عدم ادائیگی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ، وہ خود معاہدہ توڑ کر مستعفی ہوئے، اور اب معاہدے کے تحت انہیں پی سی بی کو چار ماہ کی تنخواہ کے برابر رقم ادا کرنی ہے۔
پی سی بی کی جانب سے جاری کردہ ایک وضاحتی اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ، جیسن گلیسپی نے خود سیٹلمنٹ کے لیے خط لکھا، جس کے جواب میں انہیں کنٹریکٹ کی شرائط اور بقایا جات کی وضاحت کی گئی۔ بورڈ کا مؤقف ہے کہ، اگر گلیسپی کو برطرف کیا جاتا تو انہیں چار ماہ کی تنخواہ دی جاتی، تاہم چونکہ وہ خود سبکدوش ہوئے، لہٰذا یہی رقم اب انہیں بورڈ کو ادا کرنی ہے۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ، جیسن گلیسپی کے انٹرویو میں کئی ماہ کی تنخواہ نہ ملنے کا الزام بالکل بے بنیاد اور گمراہ کن ہے۔ پی سی بی نے واضح کیا کہ، وہ اپنے تمام معاہدوں کی پاسداری کرتا ہے اور مالی ذمہ داریوں میں شفافیت کو اولین ترجیح دیتا ہے۔
یاد رہے کہ، دسمبر 2024 میں جنوبی افریقہ کے دورے سے قبل پی سی بی نے اسسٹنٹ کوچ، ٹم نیلسن کے معاہدے میں توسیع نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا، جس پر ہیڈ کوچ، جیسن گلیسپی ناراض ہوگئے اور انہوں نے دورے پر جانے سے انکار کردیا تھا۔ اس کے بعد بورڈ نے عاقب جاوید کو قومی ٹیسٹ ٹیم کا عبوری ہیڈ کوچ مقرر کر دیا تھا۔
اس سے قبل، نومبر 2024 میں پی سی بی نے عاقب جاوید کو چیمپئنز ٹرافی تک وائٹ بال ٹیم کا عبوری ہیڈ کوچ مقرر کیا تھا۔ اکتوبر 2024 میں گیری کرسٹن نے اختلافات کے باعث ہیڈ کوچ کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا، جن کے استعفیٰ کی ایک بڑی وجہ پی سی بی اور سلیکشن کمیٹی کے رکن عاقب جاوید کے ساتھ اختلافات تھے۔
پی سی بی کے مطابق، وہ کوچنگ اسٹاف سے متعلق فیصلے ملکی مفاد اور ٹیم کی بہتری کو مدنظر رکھ کر کرتا ہے اور جیسن گلیسپی کے حالیہ بیانات کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیا گیا ہے۔