الرجی اور مائیگرین کا تعلق، نئی تحقیق میں اہم انکشاف

دمے، ناک، آنکھ، گلے اور جسم کے مختلف حصوں کو متاثر کرنے والی الرجک بیماریاں نہ صرف روزمرہ زندگی کو مشکل بناتی ہیں، بلکہ اب ایک نئی تحقیق میں ان بیماریوں کا تعلق مائیگرین سے بھی جوڑا گیا ہے۔ عالمی سطح پر کی گئی ایک تازہ تحقیق کے مطابق، مختلف اقسام کی الرجی مائیگرین جیسے پیچیدہ درد سر کا باعث بن سکتی ہیں۔
تحقیقی جریدے میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق، ماہرین نے دنیا بھر سے 1 کروڑ 40 لاکھ سے زائد افراد پر کی گئی 10 مختلف تحقیقات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس ڈیٹا کا تجزیہ کرنے کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ، الرجک بیماریاں نہ صرف سانس لینے میں دشواری اور جلدی مسائل پیدا کرتی ہیں، بلکہ یہ سر کے شدید درد یعنی مائیگرین کا سبب بھی بن سکتی ہیں۔
کن بیماریوں کو مائیگرین سے جوڑا گیا؟
ماہرین نے واضح کیا ہے کہ،ناک کی بندش (رائنائٹس)،آنکھوں کی الرجی اور خارش،گلے میں خراش یا سوجن،استھما،جلد پر خارش والے سرخ دھبے (چھتے)اور پیٹ درد، اسہال، الٹی اور چہرے کی سوجن جیسے علامات رکھنے والی الرجک بیماریاں مائیگرین کے خطرے کو بڑھا سکتی ہیں۔
طرزِ زندگی میں تبدیلی کیوں ضروری ہے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ، کچھ الرجک بیماریاں ایسی ہوتی ہیں جو صرف دواؤں سے فوری ٹھیک نہیں ہوتیں۔ ایسے میں مریض کو اپنی طرز زندگی میں تبدیلیاں لا کر ان علامات کو کم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ متوازن غذا، نیند کی بہتری، تناؤ سے بچاؤ، اور ماحولیاتی عوامل سے پرہیز جیسے اقدامات نہ صرف الرجی، بلکہ مائیگرین کے خطرات کو بھی کم کر سکتے ہیں۔
مائیگرین کی علامات
مائیگرین کو عام طور پر ‘آدھے سر کا درد’ کہا جاتا ہے، لیکن یہ درد بعض اوقات پورے سر میں بھی محسوس ہو سکتا ہے۔ اس کے ساتھ متلی، قے، روشنی یا آواز سے حساسیت، اور وقتی طور پر بینائی کا متاثر ہونا جیسی علامات بھی سامنے آ سکتی ہیں۔ یہ علامات زندگی کے معمولات پر گہرا اثر ڈال سکتی ہیں۔
یہ تحقیق الرجی کے شکار افراد کے لیے ایک وارننگ بھی ہے کہ ،اگر وہ اپنی علامات کو معمولی سمجھ کر نظرانداز کرتے ہیں تو مستقبل میں انہیں مزید پیچیدگیوں کا سامنا ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا مشورہ ہے کہ، ایسے افراد نہ صرف بروقت علاج کروائیں، بلکہ صحت مند طرز زندگی بھی اختیار کریں، تاکہ وہ مائیگرین جیسے تکلیف دہ مرض سے محفوظ رہ سکیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں