سنی دیول اور رندیپ ہودا بڑی مشکل میں پھنس گئے، مقدمہ درج

بالی وڈ کے معروف اداکار سنی دیول اور رندیپ ہودا حالیہ دنوں ایک تنازعے کی زد میں آ گئے ہیں۔ ان دونوں پر، اور فلم جاٹ کی ٹیم پر، عیسائی برادری کے مذہبی جذبات مجروح کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ فلم جاٹ حال ہی میں ریلیز ہوئی ہے جس میں سنی دیول، رندیپ ہودا، ونیت کمار سنگھ اور دیگر نے کام کیا، تاہم ایک متنازع سین کے باعث عیسائی برادری نے شدید ردعمل ظاہر کیا۔

انڈین میڈیا رپورٹس کے مطابق، پنجاب کے شہر جالندھر کے صدر پولیس اسٹیشن میں فلم کے اداکاروں اور فلم سازوں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اس مقدمے میں ہدایت کار گوپی چند مالینی اور پروڈیوسر نوین یرنی کا نام بھی شامل ہے۔ مقدمہ وکلپ گولڈ نامی شہری کی شکایت پر بھارتیہ نیا سنہتا (BNS) کی دفعہ 299 کے تحت درج کیا گیا ہے۔ شکایت کنندہ کا کہنا ہے کہ فلم کے ایک مخصوص سین سے عیسائی برادری کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے۔

واضح رہے کہ فلم کی ریلیز کے بعد عیسائی برادری نے پولیس کمشنر کے دفتر کے باہر بھرپور احتجاج کیا تھا اور ایک تحریری یادداشت کے ذریعے متعلقہ افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔

ادھر فلم جاٹ نے باکس آفس پر ریلیز کے پہلے ہفتے میں تقریباً 61.50 کروڑ روپے کا بزنس کر لیا ہے۔ تاہم اگلے ہفتے اسے اکشے کمار کی آنے والی فلم کیسری 2 سے سخت مقابلے کا سامنا ہوگا۔

اس تنازعے کے بیچ، سنی دیول نے حال ہی میں ایک انٹرویو میں بالی وڈ کنگ شاہ رخ خان کے ساتھ دوبارہ فلم کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ 1993 کی مشہور فلم ڈر کے بعد دونوں کے تعلقات میں سرد مہری آ گئی تھی، لیکن اب سنی دیول نے صلح کا عندیہ دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے شاہ رخ خان کے ساتھ صرف ایک فلم کی ہے، اور وہ چاہتے ہیں کہ مستقبل میں مزید مشترکہ منصوبے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ فلم انڈسٹری میں اب وقت بدل چکا ہے، پہلے ہدایتکاروں کو مکمل تخلیقی آزادی حاصل ہوتی تھی، مگر اب فلمیں اداکاروں کی شخصیت کے مطابق نہیں بن رہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں