دل دہلا دینے والی عجیب و غریب رسومات

دنیا بھر میں مختلف رسوم پائی جاتی ہیں جو کہ آہستہ آہستہ ان کی تہذیب بن جاتی ہیں۔یہ رسومات کہیں تو بے حد دلچسپ جبکہ کہیں پر انتہائی خوفناک ہوتی ہیں۔اگرچہ ہمارے لیے تو یہ حیران کن ہونے کے ساتھ ساتھ پریشان کن بھی ہوتی ہیں مگر اس معاشرے کے لیے فخر بھی بات ہوتی ہے۔آئیے آپ کو دنیا بھر میں پائی جانے والی چند دل دہلا دینے والی رسومات سے متعلق بتاتے ہیں۔
غم کے اظہار کیلئے انگلیاں کاٹنا
مختلف تہذیبوں میں غم کے اظہار کیلئے مختلف انداز اپنائے جاتے ہیں۔ خاص طور پر کسی کی فوتیدگی پر کچھ سینہ کوبی کرتے ہیں، کچھ چیختے چلاتے ہیں جبکہ انڈونیشیا میں ’’ڈانی قبیلے‘‘ کے لوگ کسی کے مرنے پر ایک عجیب انداز اپناتے ہیں۔ روتے ہوئے نہ صرف خاک اور دھواں اپنے چہرے، سر پر ملتے ہیں بلکہ اپنے ہاتھوں کی انگلیاں ہی کاٹ دیتے ہیں۔ اس قبیلے کے لوگوں کا کہنا ہے اگر مرنے والا ایک کمزور دل شخص ہو تو اسے اگلے جہان کی مشکلات سہنے اور طاقت ور بنانے کیلئے خاندان کے لوگ اپنی انگلیاں کاٹ کر قربانی دیتے ہیں۔ مرنے والے شخص کی روح کو آسانی ملے،اس لئے مرحوم کی قریبی رشتہ دار خواتین اپنی انگلیوں کے اوپر والی پور کاٹ دیتی ہیں۔انگلیاں کاٹنے سے پہلے انگلیوں کے پوروں کو تیس منٹ کیلئے باندھ دیا جاتا ہے۔ کاٹنے کے بعد انگلیوں کے کٹے ہوئے پوروں کو خشک ہونے کیلئے رکھ دیا جاتا ہے اور بعد میں ایک خاص جگہ پر دفنا دیا جاتا ہے۔ ڈانی قبیلے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ انگلیاں کاٹنے پر جو درد اور تکلیف محسوس ہوتی ہے وہ درحقیقت اپنے کسی پیارے سے بچھڑنے کے غم کا اظہار ہے۔اس قبیلے میں نہ صرف موت پر انگلیاں کاٹی جاتی ہیں بلکہ بچے کی پیدائش کے وقت بچے کی ماں ہی اس کی سب سے چھوٹی انگلی کو زور سے دانت کاٹتی ہے تاکہ وہ دوسروں سے مختلف ہو اور لمبی زندگی جیے۔
دھواں زدہ ممی
مختلف مذاہب میں مرنے کے بعد لاش کو اس دنیا سے اگلے جہان بھیجنے کیلئے مختلف انداز اپنائے جاتے ہیں۔اسلام اور عیسائیت میں مردوں کو دفنایا جاتا ہے جبکہ ہندو اپنے مردوں کو جلا کر ان کی خاک گنگا و جمنا میں بہا دیتے ہیں، مصر میں لاشوں کو مصالحے لگا کر محفوظ کر لیا جا تا تھا۔ لیکن پاپواگینوا میں’’آنگا قبیلے‘‘ کے لوگ پہاڑوں کی چوٹیوں پر لاشوں کو ایک الگ انداز میں محفوظ رکھتے ہیں۔اگرچہ یہ طریقہ کار بھی مصر میں موجود ممیوں جیسا ہے لیکن ان کا انداز ان سے مختلف ہے۔ یہ لاش کو محفوظ کرنے کیلئے دھوئیں کا استعمال کرتے ہیں۔لاش کو تیس دن کیلئے ایک جھونپڑی میں آگ جلا کر دھویں میں سینکا جاتا ہے پھر اسے دفنانے یا جلانے کی بجائے گاؤں میں موجود پہاڑوں کی اونچی چوٹیوں پر رسیوں کے ساتھ باندھ کر لٹکا دیا جاتا ہے تاکہ گاؤں میں داخل ہوتے ہی دور سے ان پر نظر پڑتی رہے۔
یہاں کے لوگ لاشوں کو لٹا کر محفوظ کرنے کی بجائے انہیں بیٹھنے کے انداز میں محفوظ کرتے ہیں۔ جبکہ پہاڑوں پر بانس کی لکڑی سے ٹوکریاں بنا کر ان میں ممی کو بیٹھا کر اس کے ہاتھوں اور ٹخنوں کو رسیوں سے باندھ دیا جاتا ہے۔ مردے کے منہ،کان اور ناک کو سی دیا جاتا ہے تاکہ باہر سے کوئی بھی چیز جسم کے اندر داخل نہ ہوسکے۔جب ایک دفعہ لاش کو دھوئیں سے سکھا لیا جاتا ہے تو اس پر مٹی سے لیپ کر دیا جاتا ہے،اس سے ممی گلنے سڑنے سے محفوظ رہتی ہے۔ آنگا قبیلے کے لوگ اپنے مُردوں کو مختلف تہوارو ں کے دوران پہاڑوں کی
چوٹیوں سے اتار کر نیچے لے آتے ہیں اور تہواروں کے ختم ہونے پر انہیں دوبارہ پہاڑوں پر چھوڑ آتے ہیں۔ آنگا قبیلے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کے ممی بنائے گئے مُردوں میں زیادہ تعداد جنگجوؤں کی ہے اور انہیں یقین ہے کہ ان کے جنگجو مرنے کے بعد بھی ان کی حفاظت کررہے ہیں۔ اسی لئے جنگجوئوں کی لاشوں کیلئے خاص جگہ کا انتخاب کیا جاتا ہے۔
آنگا قبیلے کی ممیوں میں دوسری جنگ عظیم میں جاپانی فوجیوں کے ہاتھوں مرنے والے لوگوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔لاشوں کو ممی بنانے کا یہ انداز کئی لوگوں کو خطرناک اور ڈراؤنا لگ سکتا ہے اسی لئے 1975ء میں پاپواگنیوا کی آزادی کے بعد اس پر پابندی عائد کر دی گئی۔ آنگا قبیلے کے کچھ لوگ ابھی بھی اس طریقے پر قائم ہیں جبکہ دیگر قبیلے کے لوگ اب اپنی لاشوں کو دفنانے لگے ہیں۔
آگ کے فٹبال کا کھیل
انڈونیشیا کے بعض علاقوں میں آگ کے ساتھ ایک کھیل کھیلا جاتا ہے۔ اس کھیل میں آگ سے ایک گولا تیار کیا جاتا ہے جس کی شکل اور کھیلنے کا انداز بھی فٹ بال کی طرز کا ہوتا ہے۔مقامی لوگ اس کھیل کو ’’سیپک بولا آپی‘‘ کا نام دیتے ہیں۔ اس کھیل میں بھی فٹ بال کی طرح ہر ٹیم میں گیارہ کھلاڑی ہوتے ہیں اور مخالف ٹیم کے خلاف گول بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ کھیل عموماً رات کے وقت ہی کھیلا جاتا ہے،اس کھیل کو کھیلنے کیلئے کھلاڑیوں کو روحانی عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔ جس میں کھیل سے پہلے اکیس دن کے روزے رکھنا ہوتے ہیں۔ مختلف اوراد پڑھے جاتے ہیں، آگ پر پکے ہوئے کھانوں سے پرہیز کیا جاتا ہے۔
کھلاڑی اکیس دنوں پر محیط تزکیہ نفس کی اس مشق کے بعد روحانی طور پر پاک ہوجاتے ہیں۔ ان اکیس دنوں میں کھلاڑی دن میں روزہ رکھتے ہیں اور رات بھر جاگتے ہیں،ان تمام
مراحل سے گزرنے کے بعد کھلاڑیوں کو آگ سے ڈر محسوس نہیں ہوتا،اسی لئے وہ آگ کے اس گولے کو ننگے پاؤں ٹھوکریں مارتے ہیں۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں