پاکستان کی جانب سے ٹرانزٹ ٹریڈ کی آڑ میں ہونے والی اسمگلنگ کے خلاف مؤثر اقدامات کے باعث افغان ٹرانزٹ ٹریڈ میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
مالی سال 2025 کے ابتدائی 9 ماہ، یعنی جولائی 2024 سے مارچ 2025 کے دوران افغانستان کی پاکستان سے کی جانے والی درآمدات میں سالانہ بنیادوں پر 64 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ اس مدت میں افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کا حجم 83 کروڑ 60 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیا گیا، جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں ایک ارب 49 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کم ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق، یہ کمی اس وقت عمل میں آئی جب پاکستان نے ٹرانزٹ ٹریڈ کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے۔ اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے کسٹمز، بارڈر کنٹرول اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان بہتر رابطہ کاری کی گئی، اور نگرانی کے نظام کو سخت بنایا گیا۔
اعداد و شمار کے مطابق، مالی سال 2024 کے پہلے نو مہینوں میں افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کا حجم 2 ارب 32 کروڑ 80 لاکھ ڈالر رہا تھا، جب کہ پورے مالی سال 2023-24 میں یہ حجم 2 ارب 88 کروڑ 70 لاکھ ڈالر رہا۔ اس سے پچھلے سال، یعنی مالی سال 2022-23 میں افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کا مجموعی حجم 7 ارب 9 کروڑ 50 لاکھ ڈالر تھا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ، اسمگلنگ کے خلاف اقدامات سے ٹریڈ میں بتدریج کمی واقع ہوئی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے پہلے ہی اسمگلنگ کے خاتمے کے لیے سنجیدہ عزم کا اظہار کرتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت دی تھی کہ، وہ ملک گیر سطح پر کریک ڈاؤن میں تیزی لائیں، تاکہ قومی معیشت کو پہنچنے والے نقصانات کا سدباب کیا جا سکے۔ ان اقدامات کے مثبت اثرات اب اعداد و شمار کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔