سونگ کران: دنیا کی سب سے بڑی واٹر فائیٹ!

ہر سال 13 سے 15 اپریل کے دوران، تھائی لینڈ ایک زبردست، بھیگی ہوئی اور خوشیوں سے بھرپور پارٹی میں بدل جاتا ہے۔ لیکن یہ قدیم تہوار صرف پانی کی لڑائی نہیں، بلکہ اس کے پیچھے ایک گہرا ثقافتی اور روحانی پیغام چھپا ہے۔

سونگ کران دراصل تھائی نیو ایئر کا جشن ہے، جو فصلوں کی کٹائی کے اختتام اور نئے سال کی شروعات کے موقع پر منایا جاتا ہے۔ اس تہوار کا مقصد ہے: صفائی، بزرگوں کی عزت، اور نئی شروعات کا جشن۔

لیکن آج یہ تہوار سب سے زیادہ مشہور ہے اپنے شاندار پانی کے دنگل کے لیے، جہاں بچے، بڑے، سب ہی پانی کی بندوقیں اور بالٹیاں لے کر سڑکوں پر نکل آتے ہیں۔

تھائی لینڈ کی ٹورازم اتھارٹی کی ڈائریکٹر وراپا انگکھاسیریساپ کے مطابق: “یہ سب سے مشہور تہوار ہے، جس میں ہر عمر کے لوگ پانی سے ایک دوسرے کا استقبال کرتے ہیں۔”

حال ہی میں ہالی ووڈ سیریز The White Lotus میں بھی اس تہوار کو دکھایا گیا، جہاں تین غیرملکی سیاح اچانک سونگ کران کے ہجوم میں پھنس جاتے ہیں اور بچوں کے ہاتھوں بھیگتے ہوئے ایک دکان میں پناہ لیتے ہیں۔
اس تہوار میں غیر ملکی سیاح بھی کھلے دل سے شریک ہوتے ہیں۔ اسی لیے ہر سال دنیا بھر سے ہزاروں لوگ تھائی لینڈ آتے ہیں تاکہ دنیا کی سب سے بڑی واٹر فائیٹ کا حصہ بن سکیں۔

لفظ “سونگ کران” سنسکرت سے آیا ہے، جس کا مطلب ہے “آگے بڑھنا”۔ یہ اس وقت منایا جاتا ہے جب سورج برج حمل (Aries) میں داخل ہوتا ہے ، جو زائچہ کی پہلی نشانی ہے۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ تہوار قدیم ہندو روایت مکر سنکرانتی سے ماخوذ ہے، اور 11ویں صدی کے خمیر ایمپائر کے ذریعے تھائی لینڈ میں آیا۔

پانی، اس تہوار میں پاکیزگی کی علامت ہے، کہا جاتا ہے کہ پانی کی جنگ پچھلے سال کی منفی چیزوں کو دھو ڈالنے کا عمل ہے۔ لوگ بدھ کے مجسموں پر خوشبودار پانی ڈالتے ہیں، بزرگوں کے ہاتھ دھوتے ہیں، دعائیں لیتے ہیں، اور عبادت گاہوں میں خیرات کرتے ہیں۔

کچھ علاقے جیسے پٹایا میں یہ جشن تین دن کے بجائے دس دن تک جاری رہتا ہے۔

چونکہ اپریل تھائی لینڈ کا سب سے گرم مہینہ ہوتا ہے، اس لیے ٹھنڈی غذائیں بھی اس تہوار کا حصہ بنتی ہیں۔

اگرچہ بینکاک اور چیانگ مائی جیسے بڑے شہروں میں ہجوم ہوتا ہے، لیکن جو سیاح کم معروف علاقوں کا رُخ کرتے ہیں، وہاں بھی انہیں سونگ کران کی روحانی اور ثقافتی جھلک دیکھنے کو ملتی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں