بلوچستان کے ریکوڈک منصوبے سے متعلق ایک تفصیلی فزیبلٹی اسٹڈی میں اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ، عالمی قیمتوں کے مطابق ،60 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے تانبے اور سونے کے ذخائر یہاں موجود ہیں۔ اس تحقیق کے بعد تین بڑی سرکاری توانائی کمپنیوں نے اپنی سرمایہ کاری کا عزم دوگنا سے بھی زیادہ بڑھا دیا ہے اور اب ان کی مجموعی فنڈنگ 1.9 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔
آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل)، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) اور گورنمنٹ ہولڈنگز (پرائیوٹ) لمیٹڈ (جی ایچ پی ایل) نے ابتدائی طور پر اس منصوبے کے لیے 30 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ کیا تھا، جسے اب بڑھا کر 62 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کر دیا گیا ہے۔ اس طرح تینوں کمپنیوں کی مجموعی فنڈنگ 90 کروڑ ڈالر سے بڑھ کر تقریبا1.88 ارب ڈالر تک جا پہنچی ہے۔
او جی ڈی سی ایل کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ، ریکوڈک منصوبے سے مجموعی طور پر 13.1 ملین ٹن تانبا اور 17.9 ملین اونس سونا حاصل ہونے کی توقع ہے۔ ایک عہدیدار کے مطابق، اگر سونے کی فی اونس قیمت 3,016 ڈالر اور تانبے کی فی ٹن قیمت 9,815 ڈالر کے حساب سے تخمینہ لگایا جائے تو منصوبے کی مجموعی مالیت 60 ارب ڈالر سے تجاوز کر جاتی ہے، جس میں 54 ارب ڈالر کا سونا اور 6 ارب ڈالر کا تانبا شامل ہے۔
فزیبلٹی اسٹڈی میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ، اس منصوبے میں سرمایہ کاری پر منافع کی شرح 25 فیصد ہوگی، جبکہ کان کی عمر 37 سال متوقع ہے، جسے دو مراحل میں تقسیم کیا جائے گا۔ پہلے مرحلے میں 2028 سے سالانہ 45 ملین ٹن مل فیڈ (ایم ٹی پی اے) پراسیس کرنے کا منصوبہ ہے، جسے 2034 تک بڑھا کر 90 ملین ٹن سالانہ کر دیا جائے گا۔ پہلے مرحلے میں منصوبے کی لاگت 5.6 ارب ڈالر تک متوقع ہے، جبکہ فنانسنگ کا بندوبست کیا جا رہا ہے، جس میں تین ارب ڈالر تک کے محدود راستے پر مبنی منصوبے کی فنانسنگ کی سہولت شامل ہوگی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ، ریکوڈک منصوبہ مکمل طور پر شمسی توانائی پر چلایا جائے گا، جس سے یہ دنیا کے سب سے بڑے ‘گرین’ مائننگ منصوبوں میں شامل ہو جائے گا۔ اس حوالے سے کمپنی کا کہنا ہے کہ ،تانبے اور سونے کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے کی وجہ سے منصوبے کی لاگت میں بھی اضافہ متوقع ہے، لیکن اس اضافے کو سرمایہ کاروں کی نئی شراکت سے پورا کیا جائے گا۔
ریکوڈک منصوبے میں سرمایہ کاری اور شیئرہولڈرز کی ملکیت کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ، تین پاکستانی سرکاری کمپنیوں (او جی ڈی سی ایل، پی پی ایل، اور جی ایچ پی ایل) کا مجموعی حصہ 25 فیصد ہے، جبکہ بلوچستان حکومت کے پاس بھی 25 فیصد حصہ موجود ہے۔ اس میں 15 فیصد بلوچستان منرل ریسورسز لمیٹڈ کے ذریعے، جبکہ 10 فیصد آزادانہ طور پر رکھا گیا ہے۔ منصوبے کے باقی 50 فیصد حصص کینیڈا کی بیرک گولڈ کارپوریشن کے پاس ہیں، جو اس منصوبے کا آپریٹر ہے۔
او جی ڈی سی ایل کے مطابق، تازہ فزیبلٹی اسٹڈی کی تکمیل پاکستان کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے، کیونکہ یہ منصوبہ نہ صرف ملکی معیشت کو مستحکم کرنے میں مدد دے گا، بلکہ کان کنی کے شعبے میں پاکستان کو عالمی سطح پر نمایاں مقام دلانے کا بھی سبب بنے گا۔