آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کی ایسی ٹیکنالوجی جو کسی بھی کام کو انسانوں کی طرح انجام دے سکے، اب زیادہ دور نہیں۔ گوگل کی معروف اے آئی کمپنی ڈیپ مائنڈ کے چیف ایگزیکٹو ڈیمس ہسابیس (Demis Hassabis) نے پیشگوئی کی ہے کہ آرٹی فیشل جنرل انٹیلی جنس (AGI) – جو انسانوں سے بھی زیادہ ذہین ہو سکتی ہے – آئندہ 5 سے 10 برسوں میں ابھرنا شروع ہو جائے گی۔
لندن میں واقع ڈیپ مائنڈ کے دفتر میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "آج کے اے آئی سسٹمز بے شک زبردست ہیں، مگر وہ اب بھی محدود کام سرانجام دیتے ہیں۔ تاہم، آئندہ دہائی میں یہ سسٹمز حیران کن حد تک قابل ہو جائیں گے اور ہم اے جی آئی کے نئے دور میں داخل ہو جائیں گے۔”
ڈیمس ہسابیس نے وضاحت کی کہ اے جی آئی ایک ایسا ذہین نظام ہوگا جو تمام پیچیدہ کام کرنے کے قابل ہوگا جو آج صرف انسان انجام دے سکتے ہیں۔ تاہم، ان کا کہنا تھا کہ ابھی اس مرحلے تک پہنچنے کے لیے ہمیں اے آئی سسٹمز کو حقیقی دنیا کے تناظر کو سمجھنے کے قابل بنانا ہوگا، جو ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔
ایلون مسک اور سام آلٹمین کی پیشگوئیاں
ڈیمس ہسابیس وہ واحد ماہر نہیں جو اے جی آئی کی آمد کی پیشگوئی کر رہے ہیں۔ ٹیسلا کے مالک ایلون مسک نے 2024 میں کہا تھا کہ اے جی آئی سسٹمز 2026 تک دستیاب ہو سکتے ہیں، جبکہ اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو سام آلٹمین کے مطابق یہ سسٹمز مستقبل قریب میں ہمارے سامنے آ سکتے ہیں۔
اے آئی کے اگلے مراحل – سپر انٹیلی جنس کی آمد؟
اے جی آئی کے بعد آرٹی فیشل سپر انٹیلی جنس (ASI) کی آمد متوقع ہے، جو انسانی ذہانت کو کہیں پیچھے چھوڑ سکتی ہے۔ تاہم، ڈیمس ہسابیس کا کہنا ہے کہ اس کی درست پیشگوئی کرنا ابھی ممکن نہیں۔
ڈیپ مائنڈ کے سربراہ کے مطابق اے جی آئی کی تیاری میں سب سے بڑا چیلنج موجودہ اے آئی سسٹمز کو حقیقی دنیا کو بہتر طریقے سے سمجھنے کے قابل بنانا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "گزشتہ برسوں میں ہم نے اس حوالے سے بڑی پیشرفت کی ہے، مگر اب ہمیں پلاننگ اور الگورتھمز کو مزید مؤثر طریقے سے جوڑنا ہوگا تاکہ حقیقی ذہانت کے قریب پہنچ سکیں۔”
یہ پیشگوئیاں واضح کرتی ہیں کہ آنے والی دہائی میں اے آئی کی دنیا میں انقلابی تبدیلیاں متوقع ہیں، جو زندگی کے ہر شعبے کو متاثر کر سکتی ہیں۔