صدر ٹرمپ کی حکومت تیرہ مارچ کو ان ممالک کے نام کا اعلان کرنے لگی ہے جن پر کئی قسم کی سفری پابندیاں لاگو ہوں گی۔ بتایا جا رہا ہے کہ ان میں ممکنہ طور پر بارہ ممالک شامل ہوں گے۔ افغانستان کا نام بھی لیا جارہا ہے۔
بعض اطلاعات یہ بھی آئیں کہ پاکستان کانام بھی اس فہرست میں شامل ہے۔ تاہم اب اطلاعات کے مطابق امریکہ میں پاکستانی سفارت خانہ اور پاکستانی دفتر خارجہ سرتوڑ کوششیں کر رہا ہے کہ پاکستان کو اس فہرست میں نہ ڈالا جائے۔ میڈیا اطلاعات کے مطابق پاکستانی سفارتی حلقوں کو امید ہے کہ کابل بم دھماکے کا ملزم پاکستان نے گرفتار کر کے امریکہ کے حوالے کر کے کسی قدر نرم گوشہ حاصل کر لیا ہے اور ممکن ہے پاکستان پر یہ پابندی نہ لگے۔ اگرچہ ٹرمپ انتظامیہ سے ایسی رعایت ملنا آسان نہیں۔
یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی کے مطابق آئندہ پاکستان سے زچگی کیلئے امریکا پہنچنے والی پاکستانی خواتین کی امریکی ائیرپورٹس پر سخت جانچ پڑتال اور ایسے کیسز کی حوصلہ شکنی کی جائے گی، ورک اور اسٹوڈنٹ ویزوں کے حامل پاکستانیوں کی بھی امریکا میں سخت چھان بین کی جائے گی۔ یاد رہے کہ ماضی میں امریکہ میں پیدا ہونے والا ہر بچہ امریکی شہری تصور ہوتا تھا، چاہے اس کی فیملی سفر ہی پر امریکہ آئی ہو، تاہم صدر ٹرمپ اس اصول کو بھی بدلنا چاہتے ہیں۔
اس کے علاوہ پاکستان سے امریکا جانے والی ایئر لائنز کیلئے ممکنہ طور پر نئی سفری ایڈوائزری جاری کی جا سکتی ہے۔