یوکرین میں یورپی فوج کی ممکنہ تعیناتی پر میکرون کا عندیہ

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے کہا ہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان امن معاہدہ طے پانے کی صورت میں یورپی فوج یوکرین میں تعینات کی جا سکتی ہے۔ یہ بیان انہوں نے یورپ کے سیکیورٹی مستقبل پر بات کرتے ہوئے دیا، جس میں انہوں نے کہا کہ یورپی افواج کی یوکرین میں موجودگی کا مقصد نہ تو جنگ میں مداخلت ہوگا اور نہ ہی فرنٹ لائن پر جنگی کارروائیاں کریں گی، بلکہ اس کا مقصد یوکرین کی سلامتی کی ضمانت فراہم کرنا ہوگا۔
میکرون نے مزید وضاحت کی کہ یورپی افواج کا کام یوکرین میں امن قائم رکھنے اور مسلح تنازعے کے دوبارہ آغاز کو روکنے کے لیے معاونت فراہم کرنا ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپی یونین کے ممالک کی افواج یوکرین کی خودمختاری کو یقینی بنانے اور جنگ کے دوران کیے جانے والے معاہدوں پر عمل درآمد میں مدد دیں گی۔
صدر میکرون نے اس موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حوالے سے بھی بات کی، جنہوں نے یورپی مصنوعات پر نئی محصولات (ٹیکس) لگانے کی تجویز دی تھی۔ میکرون نے کہا کہ وہ ٹرمپ کو قائل کرنے کی کوشش کریں گے کہ یورپی مصنوعات پر امریکی محصولات کا منصوبہ ناقابل فہم ہے اور اس سے دونوں خطوں کی تجارت کو نقصان پہنچے گا۔ ان کے مطابق، یورپ اور امریکہ کے تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے لیے ایسے منصوبے پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہے۔
یورپی ممالک کے چیف آف اسٹاف اگلے ہفتے پیرس میں فرانسیسی صدر سے ملاقات کریں گے۔ اس ملاقات میں یوکرین کی موجودہ صورتحال، یورپ کی سیکیورٹی پالیسی اور عالمی سطح پر یوکرین کے لیے امن معاہدے کی اہمیت پر بات چیت کی جائے گی۔ میکرون کی قیادت میں یورپی رہنماؤں کا یہ عزم ظاہر کرتا ہے کہ یورپ عالمی سطح پر امن قائم رکھنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
میکرون کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یوکرین میں جنگ کے اثرات عالمی سطح پر محسوس ہو رہے ہیں اور امن کے قیام کے لیے بین الاقوامی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ یورپی افواج کی یوکرین میں تعیناتی کی تجویز ایک نیا اور اہم قدم ہو سکتا ہے جو نہ صرف یوکرین بلکہ پورے یورپ کی سلامتی کو مستحکم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں