خیبر پختونخواہ کے شہر، نوشہرہ کے علاقے اکوڑہ خٹک میں واقع دارالعلوم حقانیہ کی جامع مسجد میں نماز جمعہ کے بعدہونے والے خودکش دھماکے کے نتیجے میں جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ، مولانا حامد الحق سمیت5 افراد شہید اور 20 زخمی ہوگئے ہیں۔
ریسکیو 1122 کے مطابق، دھماکے کی اطلاع ملتے ہی امدادی ٹیمیں 6 ایمبولینسوں، میڈیکل ٹیموں اور فائر بریگیڈ کے ساتھ جائے وقوع پر پہنچ گئیں۔ زخمیوں میں سے کئی کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے، جس کی وجہ سے شہادتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔
آئی جی خیبر پختونخواہ، ذوالفقار حمید نے تصدیق کی کہ، یہ ایک ٹارگٹڈ حملہ تھا، جس میں مولانا حامد الحق کو نشانہ بنایا گیا۔ ڈی پی او، نوشہرہ عبدالرشید نے بھی واقعے کو خودکش حملہ قرار دیا اور بتایا کہ، دھماکہ نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد مسجد کے مرکزی ہال میں ہوا۔
حملے کے فورا بعد پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات کا آغاز کردیا ،جبکہ نوشہرہ اور پشاور کے مختلف ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی، تاکہ زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی جاسکے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے رپورٹ طلب کرلی۔ انہوں نے مولانا حامد لحق سمیت دیگر افراد کے جاں بحق ہونے پر افسوس کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کی اور متعلقہ اداروں کو زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ، بزدلانہ دہشت گرد کارروائیاں ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کے عزم کو کمزور نہیں کرسکتیں۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ، علی امین گنڈا پور نے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے نوشہرہ اور پشاور کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کرنے اور زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کے احکامات دیے۔
گورنر خیبر پختونخواہ، فیصل کریم کنڈی نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے اسلام اور پاکستان دشمن قوتوں کی سازش قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ، صوبائی حکومت کی نااہلی کے باعث ایسے واقعات پیش آرہے ہیں اور اس کی مکمل تحقیقات ہونی چاہیے۔
امیر جماعت اسلامی، حافظ نعیم الرحمان نے دھماکے کو ملک میں امن کو تباہ کرنے کی سازش قرار دیا اور کہا کہ، عبادت گاہ کو نشانہ بنانا انتہائی افسوس ناک ہے۔ ان کے مطابق دشمن قوتیں پاکستان میں انتشار پھیلانے کی کوشش کر رہی ہیں، جبکہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ،وہ عوام کو تحفظ فراہم کرے۔
دارالعلوم حقانیہ، جو اکوڑہ خٹک میں واقع ہے، پاکستان کے سب سے بڑے اور معروف دینی مدارس میں شمار ہوتا ہے۔ اس ادارے کو 1947 میں مولانا عبد الحق نے قائم کیا تھا اور یہ دیوبندی مکتب فکر سے وابستہ ہے۔ مولانا حامد الحق اس ادارے کے موجودہ سربراہ تھے اور ان کے والد مولانا سمیع الحق بھی اسی مدرسے کے ناظم اعلیٰ رہ چکے ہیں۔
پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے دھماکے کی تحقیقات کر رہے ہیں، جبکہ سیکیورٹی اداروں نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا ہے۔