عامر خاکوانی
پاکستان کرکٹ بورڈ چیمپئنز ٹرافی کے لئے اپنے سکواڈ کا اعلان کر چکا ہے ، گیارہ فروری تک تاہم اس میں تبدیلی لائی جا سکتی ہے، جبکہ اس کے بعد صرف میڈیکل انجری کی بنیاد پر اور آئی سی سی سے اجازت لے کر ہی کوئی کھلاڑی تبدیل ہوسکے گا۔
سلیکشن کمیٹی نے جو ٹیم انائونس کی اس میں دو تین حیران کن تبدیلیاں تھیں۔ سپن آل رائونڈر خوشدل شاہ اورمیڈیم فاسٹ باولر فہیم اشرف کو غیر متوقع طور پر شامل کیا گیا ہے، حالانکہ دونون نے اپنے آخری میچز دو ڈھائی سال پہلے کھیلے تھے اور عام تصور تھا کہ ان کا انٹرنیشنل کیرئر ختم ہو چکا ۔ اس سلیکشن پر وسیم اکرم، راشد لطیف سمیت کئی سابق کرکٹرز نے سخت تنقید کی ہے۔
عثمان خان کو سلیکٹ کرنے پر بھی تھوڑی بہت تنقید ہوئی ہے، جبکہ یہ نکتہ بھی سابق کھلاڑیوں اور ماہرین نے اٹھایا ہے کہ صرف ایک سپیشلسٹ سپنر کیوں شامل کیا گیا ہے ؟محمد حسنین کو شامل کرنے پر بھی تنقید ہورہی ہے، بعض کے خیال میں اس کی جگہ عباس آفریدی کو لانا چاہیے تھا کیونکہ وہ بوقت ضرورت بیٹنگ بھی کر سکتے ہیں۔ اس تنقید کے نتیجے میں چیئرمین کرکٹ بورڈ نے سلیکشن کمیٹی کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اس تنقید غور کریں اور اگر وہ قائل ہوں تو سکواڈ میں کوئی تبدیلی کر لیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان گیارہ فروری تک ایسا کر سکتا ہے اور اس سے پہلے آٹھ فروری کو پاکستان کا تین ملکی ٹؤرنامنٹ کا صرف ایک میچ ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا ان کھلاڑیوں کو پہلا میچ کھلا کر ٹیسٹ کیا جائے گا اور ناکام ہونے پر تبدیل کر دیں گے ؟
اب یہاں پر دو باتیں یاد رکھنی چاہیں، پہلی یہ کہ ان کھلاڑیوں نے بنگلہ دیش پریمیر لیگ میں بہت اچھی کارکردگی دکھائی ہے تب انہیں شامل کیا گیا۔ فہیم اشرف نے عمدہ باولنگ کراتے ہوئے آخری تین میچوں میں نو دس وکٹیں لی ہیں ، مجموعی طور پر فہیم بی پی ایل میں انیس وکٹیں لے چکا ہے جو غیر معمولی کارکردگی ہے ۔ جبکہ خوشدل شاہ نے اچھی باولنگ کے ساتھ اچھی بیٹنگ بھی کی ہے۔ عثمان خان بھی بنگلہ دیش پریمیر لیگ میں سنچری بنا چکے ہیں۔
اس لئے یہ تاثر تو ٹھیک نہیں کہ فہیم اشرف یا کوئی اور کھلاڑی کسی پرچی کی بنیاد پر سلیکٹ ہوا۔ فہیم اشرف کی میاں نواز شریف کے ساتھ تصویر وائرل ہوئی ہے، یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ فہیم کو سیاسی بنیاد پر شامل کیا گیا۔ ایسا کہنا غلط اور نامناسب ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ فہیم اشرف کے بارے میں چلے ہوئے کارتوس ہونے کا تاثرپایا جاتا ہے لیکن اس نے بنگلہ دیش پریمیر لیگ میں ٹاپ پرفارمنس دی ہے، اب تک انیس وکٹیں لے چکا ہے۔ اس لئے اسے سلیکٹ تو پرفارمنس پر کیا گیا، البتہ یہ پرفارمنس ٹی ٹوئنٹی اورایک لیگ ہی کی ہے۔ انہیں یا تو سلیکٹ ہی نہ کیا جاتا، اگر کر لیا گیا ہے تو پھر میچز بھی کھلانے چاہئیں، یوں ڈراپ کرنا تو زیادتی ہوگی ۔
دوسرا یہ کہ پاکستان کا مسئلہ ون ڈے میں جینوئن آل رائونڈر نہ ہونا ہے۔ پاکستان کے چار سپیلشسٹ باولرز تو فائنل ہیں، شاہین آفریدی، حارث روف ، نسیم شاہ /حسنین جبکہ ایک سپنر ابرار احمد۔ ان چاروں میں سے کوئی بھی جینوئن آل رائونڈر نہیں ۔ اگر پاکستان پانچواں باولر بھی سپیشلسٹ سپنر کھلائے جیسے سفیان مقیم ، تب پاکستان صرف چھ بلے بازوں اور پانچ بالروں کے ساتھ کھیلے گا اور ہمیشہ کی ناقابل اعتماد بیٹنگ مزید کمزور ہوجائے گی۔
اسی وجہ سے پاکستان پچھلے کچھ عرصے سے سات بلے بازوں اور چار سپیشلسٹ باولرز کے ساتھ کھیل رہا ہے، پانچویں باولر کی کمی سلمان آغا کی پارٹ ٹائم آف سپن اور صائم ایوب کی پارٹ ٹائم سپن سے پوری کی جاتی ہے۔یوں سات بلے باز کھیل لیتے ہیں۔ اب صائم انجرڈ ہے تو خوشدل شاہ کو اسی لئے ڈالا گیا کہ وہ اور سلمان آغا مل کر دس اوورز کرا لیں گے جبکہ باقی چالیس اوورز چار سپیشلسٹ باولرز کرائیں گے۔
یہ کمبینشین برا نہیں۔ پاکستان کی مجبوری ہے۔ عامر جمال سے امید بنی تھی کہ وہ اچھا آل رائونڈر بنے گا۔ بدقسمتی سے انجری کے بعد عامر جمال کی باولنگ متاثر ہوئی ہے۔ ان کی کارکردگی ایسی متاثرکن نہیں کہ بطور آل رائونڈر کھیل سکے اور باولنگ کے وقت اپنے دس اوورز کرا سکے۔
اس لئے اگر سفیان مقیم کو شامل کر کے کھلا بھی دیں تب بھی پاکستان چار سپیشلسٹ باولرز کے ساتھ ہی میدان میں جائے گا، ایسی صورت میں دو فاسٹ، دو سپن ہوں گے، تاہم ہماری باولنگ کمبینیشن تین فاسٹ باولرز کے ساتھ بنا ہوا ہے، دو نے نئی گیند کرانی جبکہ حارث روف پہلے پاور پلے کے بعد باولنگ کے لئے آئے۔ بظاہر تو لگ رہا ہے کہ اس بار بھی ایسا ہی ہوگا، البتہ یہ ممکن ہے کہ سابق کھلاڑیوں کی تنقید اورسوشل میڈیا کے شورشرابے سے سلیکٹرز دبائو میں آ جائیں اور ایک آدھ تبدیلی کر ڈالیں، مگر وقت بہت کم رہ گیا ہے۔