اسلام آباد کی تینوں بار کونسلز نے لاہور، سندھ اور بلوچستان ہائی کورٹ کے تین ججز کی اسلام آباد ہائی کورٹ منتقلی کے نوٹیفکیشن کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کل (پیر) کو اسلام آباد ہائی کورٹ اور ماتحت عدالتوں میں مکمل ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔
ذرائع کےمطابق، اسلام آباد بار کونسل، اسلام آباد ہائی کورٹ بار اور ڈسٹرکٹ بار کونسل کے مشترکہ اجلاس میں منظور کی گئی قرارداد میں فیصلہ کیا گیاکہ، وکلا ء اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کے مؤقف کے ساتھ کھڑے ہیں۔
قرارداد میں واضح کیا گیا کہ، اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی تعیناتی صرف اسی عدالت کے سینیئر ججوں میں سے ہونی چاہیے، کسی اور ہائی کورٹ سے جج لا کر چیف جسٹس بنانا قابل قبول نہیں۔
وکلا ءبرادری نے مزید کہا کہ، آزاد عدلیہ کے خلاف کسی بھی اقدام کو مسترد کیا جائے گا اور اس حوالے سے کل (پیر) کو صبح 11 بجے وکلاء کنونشن منعقد کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ،صدر مملکت آصف علی زرداری نے آئین کے آرٹیکل 200 کے تحت لاہور، سندھ اور بلوچستان ہائی کورٹ سے ایک، ایک جج کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں منتقل کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا، جس کے بعد سے وکلاء برادری میں شدید تحفظات پائے جا رہے ہیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے سینئر ججز بھی اس فیصلے پر اعتراض کر چکے ہیں۔ ایک روز قبل پانچ ججز نے چیف جسٹس آف پاکستان اور متعلقہ ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان کو خط لکھ کر تشویش کا اظہار کیا تھا۔
بار کونسلز کے مطابق ،یہ تبادلے عدلیہ کی آزادی اور سینیارٹی کے اصولوں کے خلاف ہیں، اس لیے انہیں فوری طور پر واپس لیا جائے۔
وکلاء رہنماؤں نے اعلان کیا ہے کہ، اسلام آباد ہائی کورٹ اور ماتحت عدالتوں میں کل مکمل ہڑتال کی جائے گی اور اگر مطالبات نہ مانے گئے تو آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان وکلاء کنونشن میں کیا جائے گا۔