وزیراعظم شہباز شریف نے ارکان اسمبلی کی تنخواہوں میں 300 فیصد اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ حکومت نے اس اضافے کو وفاقی سیکریٹریز کی تنخواہوں کے برابر لانے کا جواز پیش کیا ہے، جبکہ قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق نے وزیر اعظم کی منظوری کے بعد اس کا باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، ارکان پارلیمنٹ کو جنوری کی تنخواہ نئے اسکیل کے مطابق ادا کی جا چکی ہے۔
یہ اضافہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں کیا گیا، جہاں حکومت اور اپوزیشن دونوں نے غیر معمولی اتفاق رائے کا مظاہرہ کیا۔ اجلاس میں بعض اراکین نے تجویز دی تھی کہ ،تنخواہیں دس لاکھ روپے ماہانہ کر دی جائیں، تاہم اسپیکر قومی اسمبلی نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے 5 لاکھ 19 ہزار روپے پر اتفاق کیا۔
ذرائع کے مطابق، فنانس کمیٹی کے اجلاس سے قبل مختلف جماعتوں، بشمول مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے اراکین پارلیمنٹ نے اسپیکر ایاز صادق سے ملاقات کی اور سات سال بعد تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ کیا۔
یہ بھی بتایا گیا کہ، اضافے کے بعد بھی قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اراکین کی تنخواہیں صوبائی اسمبلی کے ارکان کے مقابلے میں کم ہیں، کیونکہ گزشتہ سات سالوں کے دوران دیگر اداروں کی تنخواہوں میں اضافہ ہوتا رہا، لیکن اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہیں بدستور وہی رہیں۔
تنخواہوں میں اس غیر معمولی اضافے پر عوامی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک کو شدید معاشی بحران کا سامنا ہے اور عام آدمی مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ، اراکین پارلیمنٹ کو پہلے ہی بے شمار مراعات حاصل ہیں، اس کے باوجود وہ اپنی تنخواہوں میں بے تحاشہ اضافہ کر رہے ہیں، جبکہ عام عوام کے مسائل جوں کے توں ہیں۔