یوٹیوب پر سب سے زیادہ سبسکرائبرز رکھنے والے معروف کنٹینٹ کریئیٹر مسٹر بیسٹ سمیت امریکی سرمایہ کاروں کے ایک گروپ نے ٹک ٹاک کے امریکی آپریشنز خریدنے کے لیے 20 ارب ڈالرز سے زائد کی پیشکش کی ہے۔
یہ پیشکش امریکی سرمایہ کار جیسی ٹنسلی کے گروپ کی جانب سے دی گئی ہے، جس میں مزید دو بڑی کمپنیوں کے سابق چیف ایگزیکٹوز بھی بطور سرمایہ کار شامل ہیں۔ بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق یہ پیشکش ٹک ٹاک کے دیگر ممکنہ خریداروں سے زیادہ ہے۔
جیسی ٹنسلی نے تصدیق کی ہے کہ ان کے گروپ نے ٹک ٹاک کے امریکی آپریشنز خریدنے کی سنجیدہ کوشش کی ہے، تاہم ان کا براہ راست بائیٹ ڈانس سے کوئی رابطہ نہیں ہوا اور اب تک کمپنی کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
بائیٹ ڈانس کا مؤقف
ٹک ٹاک کی پیرنٹ کمپنی بائیٹ ڈانس نے پہلے ہی واضح کر رکھا ہے کہ وہ امریکی کاروبار فروخت کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اس کے باوجود امریکی حکومت کی جانب سے ٹک ٹاک پر مسلسل دباؤ ڈالا جا رہا ہے، اور پابندی کے خطرات کے پیش نظر کئی سرمایہ کار اسے خریدنے کے خواہشمند ہیں۔
بائیٹ ڈانس کا کہنا ہے کہ وہ امریکا میں اپنی موجودگی برقرار رکھنے کے لیے واشنگٹن میں حکام کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے تاکہ کوئی ممکنہ معاہدہ طے پا سکے جو ایپ کو پابندی سے بچا سکے۔
ٹک ٹاک پر دباؤ اور امریکی حکومت کا ردعمل
ٹک ٹاک کو امریکا میں مسلسل سیکیورٹی خدشات کا سامنا ہے، خاص طور پر اس خدشے کے پیش نظر کہ اس کے صارفین کا ڈیٹا چین کی حکومت کے ساتھ شیئر کیا جا سکتا ہے۔ اس معاملے پر امریکی حکومت کئی بار تحقیقات کر چکی ہے اور سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں ایپ پر پابندی کی کوشش بھی کی گئی تھی، جسے بعد میں عدالتوں نے روک دیا تھا۔
حالیہ مہینوں میں، امریکی کانگریس میں بھی ٹک ٹاک کے حوالے سے کئی بار بحث ہوئی ہے اور جوبائیڈن انتظامیہ پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ سوشل میڈیا ایپ پر سخت اقدامات کرے۔ اس پس منظر میں، ٹک ٹاک کے امریکی آپریشنز کی خریداری کے لیے متعدد سرمایہ کاروں کی دلچسپی بڑھی ہے۔
کیا یہ معاہدہ ممکن ہو سکتا ہے؟
فی الحال، بائیٹ ڈانس نے نہ تو جیسی ٹنسلی کے گروپ کی پیشکش پر ردعمل دیا ہے اور نہ ہی کسی دوسرے ممکنہ خریدار سے متعلق کوئی عندیہ دیا ہے۔ تاہم، امریکی حکومت کی پالیسیوں کے پیش نظر، اگر دباؤ مزید بڑھا تو بائیٹ ڈانس کو کوئی ایسا راستہ نکالنا پڑ سکتا ہے جو ٹک ٹاک کو امریکا میں جاری رکھنے میں مدد دے۔
یہ معاملہ اس وقت امریکی ٹیک انڈسٹری اور عالمی سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، اور آئندہ چند ماہ میں اس حوالے سے مزید پیش رفت متوقع ہے۔