قومی اسمبلی کے بعد سینٹ سے بھی پیکا ایکٹ ترمیمی بل منظور

سینیٹ نے پیکا ایکٹ ترمیمی بل کی منظوری دے دی، جس پر اپوزیشن نے سخت احتجاج کیا اور صحافیوں نے واک آؤٹ کیا۔ اس بل کی قومی اسمبلی پہلے ہی منظوری دے چکی تھی۔
سینیٹ اجلاس کے دوران قائد حزب اختلاف شبلی فراز نے بل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جھوٹ پر مبنی خبروں کو روکنا درست ہے، لیکن بل کے طریقہ کار میں خامیاں ہیں۔ نہ کوئی ادارہ قائم ہوا ہے، نہ ججز اور وکلاء کا تعین ہوا ہے۔
جے یو آئی (ف) کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ ان کی ترامیم کو کمیٹی نے نہ منظور کیا اور نہ ہی مسترد۔ یہ نامکمل رپورٹ پر مبنی بل ہے۔
پیکا ایکٹ ترمیمی بل کی خصوصیات:
بل کے تحت ایک 9 رکنی اتھارٹی تشکیل دی جائے گی، جس میں سیکرٹری داخلہ، چیئرمین پی ٹی اے اور چیئرمین پیمرا شامل ہوں گے۔ چیئرمین کی تعیناتی کے لیے بیچلر ڈگری اور 15 سالہ تجربہ لازمی ہوگا۔ اتھارٹی میں صحافی، وکیل، آئی ٹی ایکسپرٹ اور سوشل میڈیا پروفیشنل بھی شامل ہوں گے۔
صحافی برادری کا یومِ سیاہ
پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے صدر افضل بٹ نے بل کو عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا اور حکومت سے مشاورت کا مطالبہ کیا۔
یہ بل حکومت کے سوشل میڈیا مواد کو ریگولیٹ کرنے اور غیرقانونی مواد کے خلاف اقدامات کے حوالے سے اہمیت رکھتا ہے، لیکن اس پر تنقید اور احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں